- Advertisement -

اے ساعتِ وصال ، مرے دن گزر گئے

صائمہ آفتاب کی ایک اردو غزل

اے ساعتِ وصال ، مرے دن گزر گئے
اے یارِ خوش جمال ، مرے دن گزر گئے

ذرّے کی حیثیت تو نہیں کائنات میں
پھر بھی ہوا ملال ، مرے دن گزر گئے

چاہا تھا خوابِ زندگی مل کر گزار لیں
آیا مگر خیال ، مرے دن گزر گئے

صد حیف صبح و شام کہ میں رائیگاں رہی
افسوس ماہ و سال ، مرے دن گزر گئے

بس تجھ کمی کا کوئی ازالہ نہ ہو سکا
کیا پوچھتا ہے حال ، مرے دن گزر گئے

اُڑتی ہے سوئے دشت مری نامراد خاک
مجھ کو خدا سنبھال ، مرے دن گزر گئے

بے سود کی تھکان ، مرا جی اُچٹ گیا
بیکار کی دھمال ، مرے دن گزر گئے

میں نے بساطِ عمر پہ رکھے جونہی قدم
چل دی سمے نے چال ، مرے دن گزر گئے

پیوستِ جسم و جان ہے اک دردِ بے دوا
واماندہ و نڈھال ، مرے دن گزر گئے

صائمہ آفتاب

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
صائمہ آفتاب کی ایک اردو غزل