آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریمحمد رضا نقشبندی

اب تک ہیں تخیل میں اتاری ہوئی زلفیں

محمد رضا نقشبندی کی ایک اردو غزل

اب تک ہیں تخیل میں اتاری ہوئی زلفیں
آتی ہیں نظر اس کی سنواری ہوئی زلفیں

پھر پیش میں نے کر دیا شانے کا سہارا
کندھوں پہ تری جب کبھی بھاری ہوئی زلفیں

دیکھے کہاں ہیں آپ نے بکھرے ہوئے بادل
یوں ہجر کے ناگوں کی وہ ماری ہوئی زلفیں

ہر کوئی گھٹا سر پہ تنی دیکھ رہا ہے
کس کس پہ بھلا انکی نہ طاری ہوئی زلفیں

دیکھا ہے کبھی باغ کوئی اجڑا ہوا سا
دیکھی ہیں کبھی آپ نے ہاری ہوئی زلفیں

محمد رضا نقشبندی

post bar salamurdu

محمد رضا نقشبندی

محمد رضا المصطفے قلمی نام محمد رضا نقشبندی رہائش کلاس والہ تحصیل پسرور ضلع سیالکوٹ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button