آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریمیثم علی آغا

اندھیری شب کی مسافت پہ

میثم علی آغا کی ایک اردو غزل

اندھیری شب کی مسافت پہ جھولی بھر کے چراغ
نکل پڑا ہوں میں لے کر سبھی سفر کے چراغ

عجیب تیرہ شبی ہے یہ کم نہیں ہوتی
بدل کے دیکھ لئے ہیں اِدھر اُدھر کے چراغ

نہ جانے کیسے اُجاڑا ہے زندگی نے ہمیں
کہ دیکھ دیکھ کے روتے ہیں رہگزر کے چراغ

ہم ایسے بھی کوئی روشن مزاج لوگ نہیں
ہمارے بجھنے پہ روئیں گے کیا سحر کے چراغ

ہماری روشنیوں پر کوئی نگہ نہ پڑی
کسی شمار میں آئے نہیں کھنڈر کے چراغ

یہ کیسے گھور اندھیرے بدن میں پھیل گئے
کہ مجھ میں رونے لگے ہیں اتر اتر کے چراغ

کوئی گیا ہوا لوٹا بھی ہے کبھی میثم
یہ کس امید پہ جلتے ہیں بام و در کے چراغ

میثم علی آغا

post bar salamurdu

میثم علی آغا

نام : میثم علی آغا - بنیادی طور پر سیالکوٹ کی تحصیل پسرور سے تعلق ہے مگر پچھلے دس سال سے اٹلی میں مستقل مقیم ہوں - کتابیں پکھی واس (پنجابی مجموعہ) میں تجھ کو یاد آؤں گا (اردو شعری مجموعہ) ابھی موسم سسکتے ہیں (اردو شعری مجموعہ) ارتجال (اردو شعری مجموعہ) در بدری: پاکستان سے اٹلی تک پیدل سفر کی کہانی (زیرِ طباعت) - اٹالین زبان میں نظموں کا مجموعہ چھپ چکا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button