- Advertisement -

قدیم ترین عشقیہ گیت

سید محمد زاہد کا ایک اردو کالم

قدیم ترین عشقیہ گیت

انیسویں صدی عیسوی تک عہد نامۂ قدیم میں شامل ”غزل الغزلات“ قدیم ترین عشقیہ گیت جانا جاتا تھا۔ یہ اس مجموعہ میں شامل سب سے متاثر کن کتابوں میں سے ایک ہے۔ اس کو بائبل کا حصہ متصور کرنے پر ابتدائی عہد کے ربیوں میں بہت بحث و تمحیص جاری رہی لیکن جب شامل کر لیا گیا تو سب سے زیادہ اس کی تشریحات کی گئیں۔ کچھ لوگ اس کو خدائی نعمت، جنسی محبت کا ایک نغمہ کہتے ہیں اور بہت سے اس میں موجود دلہن کو عبرانی قوم اور محبوب چراوھے کو یہودیوں کے خدا یہواہ کا استعارہ گردانتے ہیں۔

انیسویں صدی سے پیشتر عہد قدیم کے بارے میں ہماری معلومات بہت ناقص اور محدود تھیں۔ ماضی زمین کے سینے میں دفن تھا اور ہمیں ان دفینوں کی خبر تھی اور نہ ہمارے پاس ان کی تلاش و تحقیق کا کوئی ذریعہ موجود تھا۔ ہماری معلومات کا کل اثاثہ چند مذہبی کتابیں تھیں۔ مذہبی علماء کے بیانات حتمی مانے جاتے تھے۔ ان کی مخالفت میں دلائل یا ثبوت بھی کم ہی موجود تھے۔ ان مذہبی کتابوں میں بائبل سب سے اہم تھی۔ اس میں آدم کی پیدائش سے شروع ہو کر قرون وسطیٰ تک ترتیب سے تمام تاریخ بیان کی گئی تھی۔ سید سبط حسن لکھتے ہیں:

”سترہویں صدی کے ایک پادری اشر نے انجیل کی کتاب پیدائش کے مطالعہ سے یہ ثابت کیا تھا کہ ظہور آدم کا واقعہ 4004 قبل مسیح میں پیش آیا تھا اور دانایان مغرب نے پادری اشر کی اس کاوش کو بہت سراہا تھا۔ لیکن انیسویں صدی میں جب سائنس نے ترقی کی اور نئے نئے علوم مثلاً علم الارض، علم الحیوان اور علم الافلاک کو فروغ ہوا تو زمین اور زندگی کی عمریں متعین ہونے لگیں۔“ اشر کے اندازے کے مطابق ظہور آدم کا یہ دور تقریباً وہی بنتا ہے جب پتھر کا دور ختم ہو رہا تھا اور کانسی کے آلات بننا شروع ہو گئے تھے۔ اسی دور کو زمانہ قبل از تاریخ بھی کہا جاتا ہے۔ اس سے بہت پہلے 6000 سے 8000 قبل مسیح میں نیل، سندھ، دجلہ و فرات اور چین کے چانگ جیانگ اور ہوانگ ہو وادیوں میں زراعت کا آغاز ہو چکا تھا۔

بائبل کے واقعات اور کہانیوں کے ثبوت حاصل کرنے کے لیے 51۔ 1845 کے درمیان بائبل میں مذکور مقامات کی کھدائی کی گئی۔ اس دوران عراقی قدیم شہر نینوا ( جدیدنیفر ) میں اسوریائی بادشاہ اشور بنی پال کا ذاتی کتب خانہ دریافت ہوا جس میں بہت سی مٹی کی تکونی تختیاں ملیں۔ یہ نوشتے تجارتی معاہدوں، شاہی مہموں، مذہبی دعاؤں کے ساتھ ساتھ رزمیہ داستانوں اور دیوتاؤں کے قصوں پر مشتمل ہیں۔ متأثر کن بات یہ تھی کہ بائبل کی سچائی کو ثابت کرنے کی کوشش میں اس لائبریری نے اس بات کا ثبوت فراہم کیا کہ بائبل میں شامل بہت سی کہانیاں بہت پہلے دجلہ و عرفات کی سر زمین میں کسی نہ کسی شکل میں موجود تھیں۔

ان میں سے ہی مٹی کی ایک تختی استنبول کے عجائب گھر میں ’استنبول 2561‘ کے نام سے ایک عرصہ تک محفوظ پڑی رہی۔

انیسویں صدی تک سب سے قدیم عشقیہ گیت کے نام سے جانی جانے والی کتاب ’غزل الغزلات‘ تقریباً ہزار سال قبل مسیح میں بادشاہ سلیمان کے دورمیں لکھی گئی۔ ’استنبول 2561‘ نامی لوح پر بھی ایک نظم موجود ہے۔ ستم ظریفی کی بات ہے کہ یہ نظم جس لوح پر لکھی ہوئی ہے وہ دو ہزار قبل مسیح کی تحریر ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ اس کا مزاج اور ماحول بلاشبہ چار پانچ ہزار قبل مسیح کا ہے جب کہ اہل عراق زراعت کے ابتدائی دور سے گزر رہے تھے۔

بہت عرصہ بعد ماہر آثار قدیمہ سموئیل نوح کرائمر نے اس کا ترجمہ کیا۔ کرائمر لکھتا ہے:

”جب میں نے پہلی بار اس پر نگاہ ڈالی تو اس کی سب سے پرکشش خصوصیت اس کی حفاظت کی حالت تھی۔ مجھے جلد ہی احساس ہوا کہ میں ایک ایسی نظم پڑھ رہا ہوں جس میں متعدد بند موجود ہیں اور جن میں خوبصورتی اور محبت کا جشن منایا گیا ہے۔ اس نظم میں ایک شاداں و فرحاں دلہن اور شوسن نامی بادشاہ کا ذکر تھا۔ جیسے ہی میں نے اسے بار بار پڑھا، اس میں کوئی غلطی محسوس نہیں ہوئی۔ جو کچھ میں نے اپنے ہاتھ میں تھاما ہوا تھا ، وہ انسان کے ہاتھ سے لکھا گیا سب سے پرانا گیت تھا۔“

یہ نظم بادشاہ کی عنانہ دیوی کے مندر کی ایک پجارن سے شادی کے موقع پر مذہبی رسم کے طور پر پڑھی جاتی تھی۔ یہ رسم بادشاہ اورمحبت و زرخیزی کی سمیری دیوی عنانہ کی علاماتی شادی کے طور پر منائی جاتی تھی۔ شوسن بادشاہ بیسویں اکیسویں صدی قبل مسیح میں ار شہر پر حکمران تھا۔ یہ زرعی دور تھا اور ہر سال موسم بہار کے آغاز میں بادشاہ اور دیوی کے ملاپ کا مقصد زمین میں زرخیزی اور خوشحالی یقینی بنانا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ بادشاہ کا دیوی دیوتاؤں سے رشتہ ان کے حق حکمرانی کو مزید مضبوط کرتا تھا۔

یہ نظم بادشاہ کی ہونے والی دلہن گاتی تھی۔ اس میں دلہن مستقبل کے شوہر کے ساتھ اپنی محبت کو انتہائی شہوانی جذبات میں پیش کرتی ہے۔ بادشاہ کی تعریف اور اس سے محبت کا مظاہرہ کر کے، دلہن اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ محبت، جنسی تعلق اور اس کی بادشاہ کی برکت سے ملک خوشحال ہو گا۔

میرے نوشہ، جانی میرے دل کے
اے حسین مہربان، شہد سے میٹھے
میرے شیر، جانی میرے دل کے
اے حسین مہربان، شہد سے میٹھے
مجھے موہ لینے والے، مرتعش بدن والی کو سامنے رہنے دے
میرے دلہا! سمیٹ کر مجھے، سہاگ کی سیج پر لے جا
مجھے موہ لینے والے، مرتعش بدن والی کو سامنے رہنے دے
میرے شیر! میرے دلہا! سمیٹ کر مجھے، سہاگ کی سیج پر لے جا
میرے نوشہ، مجھے ہم آغوش ہونے دے
شہد سے لذیذ ہے، میرا انمول لمس
سہاگ کی سیج پر، اے شہد سے لبالب ساغر
لطف اندوز ہونے دے مجھے، دلکش جمال سے
میرے شیر، ہم آغوش ہونے دے مجھے
شہد سے زیادہ لذیذ ہے، میرا انمول لمس
نوشہ! کیف آگیں ہو چکا، تو مجھ سے
بتلا میری ماں کو! وہ خاطر داری کرے لذیذ پکوانوں سے
میرا باپ! وہ نذرانے پیش کرے تجھے
تیری روح! میں جانتی ہوں، تیری روح کو کہاں شاد باش کروں
میرے نوشہ! محو استراحت رہو، ہمارے گھر میں، طلوع فجر تک
تمہارا دل! میں جانتی ہوں، تمہارا دل، کہاں شاداں و فرحاں ہو گا
میرے شیر! محو استراحت رہو، ہمارے گھر میں، طلوع فجر تک
مجھے مانگنے دے، ہمیشہ تیری آغوش، تیرا ساتھ
میرے آقا، میرے دیوتا۔ میرے خدا، میرے حفیظ
میرے شو سن! تو جو شاداں کرتا ہے، این لل کے دل کو
ہمیشہ تیری آغوش، تیرا ساتھ، مجھے مانگنے دے
تیرا مقام، تیرا ساتھ شہد کی مانند دلکش۔ رکھنا اس پر اپنا ہاتھ
دست کرم رکھنا گشبن پوشاک کی طرح
ہاتھوں کے پیالے میں محفوظ رکھنا، گشبن سیکن پوشاک کی طرح

شو سن کی یہ نظم اب تک کی دریافت شدہ سب سے قدیم عشقیہ نظم ہے۔ اس سے تقریباً ایک ہزار سال بعد لکھی گئی غزل الغزلات کی بہت سی آیات اس سے ملتی جلتی دکھائی دیتی ہیں۔ غزل الغزلات شو سن کی نظم سے انتہائی متاثر محسوس ہوتی ہے ، بالکل ویسے ہی جیسے ہم آج عمر خیام اور امیر خسرو کی شاعری کے جادو کے زیر اثر ہیں۔

اس میں دیوی یا پجارن زمین اور عوام کا استعارہ ہیں اور بادشاہ خدا کا یا پھر عنانہ دیوی کے خاوند دیموذی کا جو کہ ایک گڈریا تھا۔ غزل الغزلات کا ہیرو بھی ایک چرواہا (یہواہ ) ہے اور اس کی دلہن شولمیت (عبرانی قوم) تاکستان میں کام کرتی ہے۔ بائبل کے اس گیت میں جنسی ملاپ اور عشق استعارہ ہے یہواہ اور انسان کی محبت کا اور اس میں بھی بادشاہ ( یا دیوتا ) اور اس کی دلہن، زرخیزی کی دیوی کا پیار بھی وہی بیان کر رہا ہے۔

بہت سے الفاظ بھی اس گیت نے شو سن کی نظم سے مستعار لیے ہیں ، اگرچہ دونوں کے درمیان کم از کم ایک ہزار سال کا فاصلہ ہے۔ غزل الغزلات کے چوتھے گیت میں بہت سے استعارے اس نظم سے لیے گئے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا کہ یہودیوں نے بابل کی اسیری کے دوران اس نظم کو سیکھ لیا تھا، جو ان کے لاشعور میں محفوظ ہو گئی۔

اس نظم میں شہد کا ذکر اور شہد کا لبالب بھرے ساغر کا ذکر بار بار آتا ہے اور غزل الغزلات میں بھی۔ اس میں تو شہد و شیر کے سوتے شولمیت کی زبان کے نیچے پھوٹتے ہیں۔ اس نظم کی طرح غزل الغزلات کی شولمیت بھی ہیرو کو پکارتی ہے کہ وہ اسے اپنی خواب گاہ کی طرف لے جائے طلوع فجر تک لطف اندوز ہونے کے لیے۔ دونوں میں جنسی کشش اور دیوانگی عروج پر ہے۔ دونوں نظموں کو زبان عورت کی دی گئی ہے اور انتہا درجہ کی جنسی ملاپ کی خواہش اور تڑپ کا ذکر ہے۔

شو۔ سن کی نظم کا آخری بند قیمتی ریشمی پوشاک اوڑھے ہوئے ہے ، وہی پوشاک جو غزل الغزلات میں لبنان کے ریشم کی خوشبو سے معطر ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ دونوں گیت عشق و محبت، تڑپ اور جنسی کشش کو بہت اچھی طرح بیان کرتے ہیں۔ غزل الغزلات پر تیس صدیوں سے کام ہو رہا ہے۔ اس کی نوک پلک ہمیشہ ہی سنواری جاتی رہی ہے۔ شو سن کی نظم کی بدقسمتی دیکھیں کہ اسے ”استنبول 2561“ جیسا غیر ادبی نام ملا ہے لیکن یہ قدیم ترین گیت چالیس صدیوں تک زمین میں دفن رہنے کے باوجود انسان کے جذبات کی بہترین ترجمانی کر رہا ہے۔

سید محمد زاہد

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
فرانسس سائل کی ایک اردو غزل