اردو غزلیاتباقی صدیقیشعر و شاعری

کیا ملے گی ہمیں خبر اپنی

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

کیا ملے گی ہمیں خبر اپنی
ہے گراں خود پہ اک نظر اپنی

دوسروں کے بھلے میں بھی اے دوست
فکر ہوتی ہے بیشتر اپنی

اک سحر ظلمت جہاں سے دور
کہہ سکیں ہم جسے سحر اپنی

کارواں ہے قریب منزل کے
اب کرے فکر راہبر اپنی

پوچھتے ہیں جہاں کی ہم باقیؔ
اور کہتا ہے چارہ گر اپنی

باقی صدیقی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button