آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریعاطف کمال رانا

اتنا ہی بہت ہے کہ یہ بارود ہے مجھ میں

ایک اردو غزل از عاطف کمال رانا

اتنا ہی بہت ہے کہ یہ بارود ہے مجھ میں

انگارہ نما شخص بھی موجود ہے مجھ میں

پوروں سے نکل آئی ہے اک برف کی ٹہنی

اے دوست یہی آتش نمرود ہے مجھ میں

ہر گیند کے پیچھے کوئی آتا ہے ہمیشہ

یہ کون سے بچے کی اچھل کود ہے مجھ میں

گالی نہیں اچھی تو تمہیں پیش کروں کیا

اک اور بھی جملہ سخن آلود ہے مجھ میں

میں دیکھتا رہتا ہوں کہ وہ کھڑکی ہے خالی

تا حال یہی رونق بے سود ہے مجھ میں

یوں ہی تو نہیں لوگ گزرتے مرے دل سے

لگتا ہے کوئی منزل مقصود ہے مجھ میں

عاطف کمال رانا

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button