- Advertisement -

پربتوں کی چوٹی پر

فیصل ہاشمی کی ایک اردو غزل

پربتوں کی چوٹی پر ‘ شام ہونے والی ہے
آسماں پرندوں اُور بادلوں سے خالی ہے

ساتھ چلنے والوں سے گفتگُو معَطّل ہے
راستے کے پیڑوں نے ‘ خامُشی بڑھا لی ہے

رات کی کہانی میں اُس بدن کی تنہائی
راز داں نہ بنتی تھی ‘ راز داں بنا لی ہے

دُور تک چراغوں کی اِک قطار رکّھی ہے
مَیں نے اپنے حِصّے کی روشنی اُٹھا لی ہے

فیصلؔ ہاشِمی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
فیصل ہاشمی کی ایک اردو غزل