آپ کا سلاماردو نظمشعر و شاعریگلناز کوثر

پرندے کچھ تو کہتے ہیں

گلناز کوثر کی ایک اردو نظم

پرندے اُجلے دن کی پہلی ساعت سے بھی پہلے جاگ جاتے ہیں
رسیلی ، میٹھی تانیں چھیڑتے ، کھڑکی بجاتے ہیں
پرندے نیند کی گاگر الٹ کر مسکراتے ہیں
مرے گھر سے نکل کر دور جاتے راستے پر پھیلی
تنہائی کی شاخیں توڑتے ہیں ۔۔۔ کھلکھلاتے ہیں
ہوائوں کو جھُلاتے ، پتیوں کو گُدگداتے۔۔۔۔
اجنبی چہروں ، مشینوں سے بھرے دفتر کے باہر
اک پرانے پیڑ پر آنکھیں گھُماتے ، غُل مچاتے
منتظر رہتے ہیں دن بھر کی تھکن سے چُور قدموں کے تلے پلکیں بچھانے کو
پرندے زرد شاموں میں اداسی گھولتے منظر اٹھائے ، رنگ بکھرائے
مرے ہمراہ آتے ہیں
لچکتی ڈالیوں پر گنگناتے، ڈولتے، ہنستے
مرے روٹھے ہوئے دل کو مناتے ہیں
پرندےملگجی منظر کی ویرانی، مری چٹخی ہوئی نظروں کے پس منظر میں
کیسا شور کرتے ہیں
ملائم بادلوں کے سرمئی ٹکڑوں پہ
بیتے موسموں کے عکس دھرتے ہیں
افق کے پار بجھتی ، ڈوبتی کرنوں کے خاکے میں
تمہارا نام بھرتے ہیں

گلناز کوثر

post bar salamurdu

گلناز کوثر

اردو نظم میں ایک اور نام گلناز کوثر کا بھی ہے جنہوں نے نظم کے ذریعے فطرت اور انسان کے باطن کو ہم آہنگ کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ گلناز کوثر کا تعلق لاہور سے ہے تاہم پچھلے کچھ برس سے وہ برطانیہ میں مقیم ہیں، انہوں نے اردو اور انگریزی ادب میں ماسٹرز کرنے کے ساتھ ساتھ ایل ایل بی کی تعلیم بھی حاصل کی، البتہ وکیل کے طور پر پریکٹس کبھی نہیں کی۔ وہ نیشنل کالج آف آرٹس لاہور کے ریسرچ اینڈ پبلیکیشن ڈیپارٹمنٹ سے وابستہ رہیں، علاوہ ازیں انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے عالمی ادب بھی پڑھایا۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ دو ہزار بارہ میں ’’خواب کی ہتھیلی پر‘‘ کے نام سے شائع ہوا اور ادبی حلقوں میں بہت مقبول ہوا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button