اردو غزلیاتشاہد ماکلیشعر و شاعری

ابد کے طشت میں کچھ پھول

شاہد ماکلی کی ایک اردو غزل

ابد کے طشت میں کچھ پھول اور ستارے لیے
یہ میں ہوں دور سے آیا ہوا تمہارے لیے

عجب تھی ان سے ملاقات پر تپاک مری
وہ میرے خس کدے میں آ گئے شرارے لیے

دیار گریہ کی گلیوں میں ایسی پھسلن ہے
بشر گزرتے ہیں دیواروں کے سہارے لیے

بچھا کے ان کو میں چاہے جدھر اتر جاؤں
رواں ہوں ناؤ میں دریا کے دو کنارے لیے

بلندی سے گرے مضمون کی طرح ہے حیات
لڑھکتی پھرتی ہے لغزش کے استعارے لیے

ہزار صبح سفر ناشتے کی میز پہ تھی
میں گرم سیر ہوا نور کے حرارے لیے

نہ جانے ابر مرا کس طرف روانہ ہے
سیاہ رات کے پردے میں برق پارے لیے

خدا سے خوف زدہ اتنا کر دیا گیا تھا
کہ ہم نے سانس بھی دنیا میں ڈر کے مارے لیے

یہی تھی شب جو زمیں سے گئی تھی نم لے کر
اب آسماں سے چلی آ رہی ہے تارے لیے

بہت سی خود میں تماثیل جمع کر لی ہیں
کچھ اپنے واسطے کچھ خاص کر تمہارے لیے

میں ڈھونڈ لایا کہیں سے کنایہ فردا کا
کہیں سے گزرے ہوئے وقت کے اشارے لیے

سماع کے لیے سرگوشیاں اٹھا لایا
نظر کے واسطے فطرت سے کچھ نظارے لیے

سب ایک ساتھ کہیں لاپتہ ہوئے شاہدؔ
بلند کرنی ہے کس نے صدا ہمارے لیے

شاہد ماکلی

post bar salamurdu

شاہد ماکلی

شاہد ماکلی تونسہ کے گاؤں مکول کلاں سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کی تاریخ پیدائش 31 اگست 1977 ہے۔ آپ نے پنجاب یونیورسٹی لاہور، سے میٹلرجی اینڈ میٹریلز سائنس میں بی ایس سی انجینئرنگ کی ڈگری مکمل کی۔ آپ کا پہلا شعری مجموعہ ”موج“ 2000 میں شایع ہوا۔ جب کہ دوسرا مجموعہ ”تناظر“ کے نام سے 2014 میں شایع ہوا۔ اس کے علاوہ آپ معروف ادبی جریدے ”آثار“ سے بہ طور مدیر منسلک ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button