اردو نظمشعر و شاعریشہزاد نیّرؔ

باہر نہیں جاسکتے تو اپنے اندر چلتے ہیں

شہزاد نیّرؔ کی اردو نظم

باہر نہیں جاسکتے تو اپنے اندر چلتے ہیں ۔ ۔

وہ آنکھیں بند رکھتا ہے!

پرانا، برگزیدہ اور گھنا چَھتنار۔۔۔۔ اک برگد
وہ سایہ ہے کہ جس کے جسم پر
یک رنگ پیراہن میں
اک بھی دھوپ کی کترن نہیں ملتی
اسی سائے میں اک مفلوج تن رکھا ہے
سر گھٹنوں میں ہے
اور پاؤں چکنی سرخ مٹی میں
بہت بے بس نگاہوں سے
فلک پر بھاگتے سورج
سرکتے سائے کو دیکھے
وہاں سے ہٹ نہیں سکتا
مگر اس دھوپ سے کیسے بچائے خود کو
جو بڑھتے ہی آتی ہے
جلا کر راکھ کرنے کو
بدن کو چاٹنے والی !
فلک پر بادلوں کی ایک بھی چھتری نہیں کھلتی
بدن سے سائے کی چادر سرکتی جا رہی ہے
چلچلاتی دھوپ اپنا پھن اٹھاتی ہے
یہ "باہر ” کس قدر سفاک ہے
چھپر نہیں دیتا !
وہ گہری سانس لے کے اپنے "اندر”
کی طرف غوطہ لگاتا ہے
وہ خود اپنے ہی سائے میں
سمٹ کر بیٹھ جاتا ہے

شہزاد نیّرؔ

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button