اردو شاعریاردو نظمسارا شگفتہ

پرندے کی آنکھ کھل جاتی ہے

ایک اردو نظم از سارا شگفتہ

کسی پرندے کی رات پیڑ پر پھڑپھڑاتی ہے

رات پیڑ اور پرندہ

اندھیرے کے یہ تینوں راہی

ایک سیدھ میں آ کھڑے ہوتے ہیں

رات اندھیرے میں پھنس جاتی ہے

رات تو نے میری چھاؤں کیا کی

جنگل چھوٹا ہے

اس لئے تمہیں گہری لگ رہی ہوں

گہرا تو میں پرندے کے سو جانے سے ہوا تھا

میں روز پرندے کو دلاسہ دینے کے بعد

اپنی کمان کی طرف لوٹ جاتی ہوں

تیری کمان کیا صبح ہے

میں جب مری تو میرا نام رات رکھ دیا گیا

اب میرا نام فاصلہ ہے

تیرا دوسرا جنم کب ہوگا

جب یہ پرندہ بیدار ہوگا

پرندے کا چہچہانا ہی میرا جنم دن ہے

فاصلہ اور پیڑ ہاتھ ملاتے ہیں

اور پرندے کی آنکھ کھل جاتی ہے

سارا شگفتہ

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button