شعر و شاعریمزاحیہ شاعری

بہت سردی ہے

اردو میں ایک مسکراتی ہوئی غزل

آج رہنے دو اشنان، بہت سردی ہے
اور گیزر بھی نہیں آن ، بہت سردی ہے

اب یہی عزم ہے ، چاہے تو قیامت گزرے
ہم نہ بدلیں گے یہ بنیان ، بہت سردی ہے

چاند پر جھک کے کسی ابر نے سرگوشی کی
گھر میں رہتے ہیں ، میری مان ، بہت سردی ہے

وہ جو برسوں سے ، مری نتھیاگلی کہتے تھے
اب وہی کہتا ہے ملتان ، ” بہت سردی ہے ”

جیب میں ہاتھ دئیے ایک سپاہی بولا
آہ ! کیسے کروں چالان بہت سردی ہے

سرد ہاتھوں سے چھوا جب تو تڑپ کر بولے
بھاڑ میں جائے یہ رومان ، بہت سردی ہے

ہم تو لاہور کے جاڑے میں بھی جم جاتے ہیں
ہم نہیں جائیں گے ناران ، بہت سردی ہے

آگ تاپی ہے رقیبوں نے بھی ہمراہ میرے
تیرے کوچے میں میری جان بہت سردی ہے

کاش کابینہ کے اجلاس میں کہہ دے کوئی
گیس منگوائیے کپتان ، بہت سردی ہے

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button