Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
یہ مرے گھر کے تین چار درخت
نشے میں ہم ہیں مگر
گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں
ماورا ہے سوچوں سے
اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات
بات کرتے ہو کیا دسمبر کی
سوچتے رہو، جیتے رہو
ہو سکے تو آ جاؤ بارشوں کے موسم میں
اس نے ہونٹوں سے کھینچ لی سگریٹ
ہوئی آنکھ نم دل تڑپ کر پکارا
میں صدا فقیری ہوں مجھ میں ہو زیادہ ہے
سینے میں کوئی آگ کا گولا ہے
اسی لیے تو کھڑے ہم بتوں کی صف میں ہیں
دکھی دلوں کا سہارا جہاں میں کوئی نہیں
تھے جو دو چار مر گئے ہیں کیا
زمیں سے زیر ہوا ہوں نہ آسماں سے میں
ہاتھ میں جام ہے دل کو آرام ہے
پوری لگن امنگ سے میں نے نہیں کیا
میں پڑا ہوں میکدے میں بوتلوں کے درمیاں
جنون و عشق کے رستے بحال کرتی ہے
نہیں جو چیز جہاں میں اسے پکارے گئے
نشے میں جھومتا گاتا ہوں ٹوٹ جاتا ہوں
محسوس ہو رہا ہے کہ تنہا نہیں ہوں میں
یہ مری انا کی شکست ہے
مجھے اپنے ضبط پہ ناز تھا
وہ موجِ تبسّم شگفتہ شگفتہ
تم ماتھے پہ بل ڈال کے جو بات کرو گی
وہ یوں ملا کے بظاہر خفا خفا سا لگا
اور روشن رہِ سفرکردو
اٹھے تو صبحِ درخشاں
عاصمہ فراز کی نعت مبارکہ (ویڈیو)
مسٹر چیری | ایک اردو افسانہ (ویڈیو)
دوست کی شادی – خوشیوں کا سفر
پاکستانی فوج کی داستان
عید کا چاند اور دل کی کیفیت
بھلے ہی رائیگاں رکھتے مگر مسکن بدل دیتے
نہ جانے کیا سے کیا مجھ کو
کیسا احساس کیا ہوگا ؟…!
ربّانی بنو، رمضانی نہیں!
آپ کو وہ گزرا زمانہ تو یاد ہوگا
آبنائےہرمز وارڈ ، ڈونلڈ ٹرمپ اور عالم لوھار
عید مبارک
عید کی برکتیں اور محبت کا پیغام
عید کا ریشم یا جہنم کی تپش؟
چونّی
حاصل کاروبار جہاں
بیٹی، تعلیم اور بدلتا ہوا دیہی معاشرہ
گھما پھرا کے ہماری نظر وہیں آتی
کسی بزرگ پہاڑی پہ تو اترتا ہے
زخم ایسا ہے دکھانے سے ہوا لگ جائے
ہماری چال الٹی پڑ گئی استاد
لگ کے بیٹھا تھا ایک کونے سے
اب پرندوں میں ڈر ہے خون نہیں
بات کیا جانے آ گئی دل میں
کچھ بھی ہو پیش نظر جاتا ہوں میں
یار کیا داستاں کو موڑ دیا
اس اطلسی قبا کے ہی تسمے کا درد ہے
زاینو ازم ڈیجیٹل دور میں سکون کی آخری پناہ
مسلمان بننا نہیں، مسلمان دکھنا چاہتے ہیں؟
میں کون ہوں؟ مسلمان ہوں یا کیا ہوں؟
سفید پوش طبقہ اور نوجوان نسل کے مسائل
سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے منفی اثرات
ڈاکٹر وحید احمد | حصہ 2
23 مارچ : قراردادِ پاکستان سے آج تک کا سفر
کلام نبویؐ کی کرنیں
آبِ حیات (محمد حسین آزاد)
خاموشی کا شور
کلمہ مہمل
کتن والی
مرد : درد کا سفیر
<<
1
...
131
132
133
134
135
136
137
138
139
140
>>