بات کیا جانے آ گئی دل میں
ماں مرا جی نہیں لگا مل میں
یار پھولوں سے خوب صورت ہے
یعنی کانٹا پڑا رہے دل میں
ہم کو کیڑا بنا کے دھرتی پر
رزق محفوظ کر دیا سل میں
پانی ہر چیز کا جد امجد
راز کن رکھ دیا گیا گل میں
ویسے محفل تو ساری اپنی ہے
کوئی اپنا نہیں ہے محفل میں
میری آنکھوں میں اب بھی چلتی ہیں
بھولے بسرے دنوں کی سب فلمیں
تیری آواز پر میں نکلا تھا
زندگی چھپ گئی کہاں بل میں
چھا گیا ہے چہار سو سکتہ
یار نکلا ہے سرخ محمل میں
آج پھر یار ہے ہماری چپ
جان راشدؔ ہے آج محفل میں
راشد امام







