آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

بڑھتی ہوئی ویڈیو گرافی

ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی

پاکستان میں گزشتہ چند برسوں میں ویڈیو گرافی ایک تیز رفتار سماجی رجحان کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اگرچہ اس کا آغاز دو ہزار پندرہ کے بعد اس وقت ہوا جب سمارٹ فون عام ہونا شروع ہوئے لیکن اس رجحان نے بہت جلد ہمارے معاشرتی ماحول، ذہنی رویوں اور روزمرہ طرز زندگی کو بدل کر رکھ دیا۔ اب ہر شخص کے ہاتھ میں کیمرہ موجود ہے اور ہر لمحہ کسی نہ کسی شکل میں محفوظ ہو رہا ہے۔ یہ تبدیلی بظاہر تکنیکی ترقی کا نتیجہ ہے لیکن اس کے اثرات محض ٹیکنالوجی تک محدود نہیں رہے بلکہ ہمارے معاشرتی رویوں، اخلاقی معیار اور اجتماعی شعور پر بھی گہرے نقوش چھوڑ رہے ہیں۔

ابتدا میں ویڈیو گرافی کو ایک مثبت سرگرمی کے طور پر لیا گیا۔ تعلیمی اداروں نے طلبہ کی بہتری کے لئے ویڈیوز بنانا شروع کیں۔ سیکھنے سکھانے کے عمل میں نئی راہیں کھلیں۔ بچے گھریلو ماحول میں بیٹھ کر جانوروں، پودوں، فلکیات، ادب، کھیل اور سائنس سے متعلق چھوٹے لیکچر سننے لگے۔ اسی طرح والدین کو بھی یہ سہولت مل گئی کہ وہ اپنے بچوں کے تعلیمی سفر کوvideo ریکارڈ کر کے سنبھال سکیں۔ معلوماتی ویڈیوز نے عام آدمی کو گھر بیٹھے دنیا بھر کے علوم سے متعارف کروایا۔ مذہبی رہنمائی، اصلاحی پیغامات، صحت سے متعلق آگاہی، ذہنی نشوونما، جسمانی ورزش اور چھوٹے کاروبار کی تربیت جیسے موضوعات نے ہزاروں لوگوں کی عملی زندگی میں مثبت تبدیلی پیدا کی۔

ثقافتی پہلو بھی اسی رجحان سے مضبوط ہوا۔ پاکستان کے مختلف علاقوں، زبانوں اور روایات پر مبنی ویڈیوز نے ملک کی شناخت کو نئی طاقت بخشی۔ سیاحت کے فروغ میں یہ ہنر خاص طور پر نمایاں رہا کیونکہ عام نوجوانوں نے اپنے شہروں اور پہاڑی راستوں کی حیرت انگیز خوبصورتی دنیا تک پہنچائی۔ محنت کش اور ہنرمند افراد کی کہانیاں ریکارڈ ہو کر سامنے آئیں اور لاکھوں لوگوں کو یہ احساس ہوا کہ ہمارے معاشرے میں بے شمار پوشیدہ ہیرے آج بھی موجود ہیں۔

لیکن مثبت پہلوؤں کے ساتھ ساتھ ویڈیو گرافی نے کئی منفی رخ بھی اختیار کر لئے۔ سوشل میڈیا کی تیزی اور شہرت کی خواہش نے ایسے مواقع پیدا کیے جہاں اخلاقیات اور حدود کی پامالی عام ہوتی چلی گئی۔ غیر اخلاقی ویڈیوز نے نوجوان نسل کے ذہنوں میں بے فکری اور سطحیت کو بڑھایا۔ سیاسی بے چینی کو بڑھانے میں بھی تیز رفتار ویڈیو کلپس نے اہم کردار ادا کیا۔ بغیر تحقیق کے اپ لوڈ کی جانے والی ویڈیوز نے معاشرے میں غلط فہمیاں پیدا کیں۔ کئی نوجوان محض ڈالر کمانے کی خواہش میں ایسے مواد بنا رہے ہیں جو ان کی اپنی شخصیت اور معاشرے دونوں کے لئے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔

جرائم کی تشہیر ایک نئی صورت میں سامنے آئی۔ مجرموں کے انٹرویوز، اینکرز کا ان کے ساتھ غیر سنجیدہ رویہ، اور شرمندگی والے سوالات نے میڈیا کی سنجیدگی کو مجروح کیا۔ اسی طرح جھوٹے واقعات کو سنسنی خیزی کے لئے ریکارڈ کرنا ایک الگ مسئلہ بن کر سامنے آیا۔ حادثات میں مدد کرنے کے بجائے موبائل کیمرہ اٹھا لینا معاشرتی بے حسی کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ بیمار، زخمی یا غمزدہ افراد کی ویڈیو بنا کر وائرل کرنا انسانی وقار کے خلاف ایک شدید رویہ ہے۔

کرونا وائرس کے دنوں نے بھی ویڈیو گرافی کا رخ عجیب انداز میں بدل دیا۔ خیرات کے نام پر لوگوں کی بے بسی کو دکھانا رواج بن گیا۔ خیرات ایک ایسا عمل ہے جس کا تعلق انسان اور اس کے رب کے درمیان ہوتا ہے۔ اسے یوں نمائش میں لانا نہ صرف اخلاقی طور پر سوالیہ نشان ہے بلکہ محتاج شخص کی عزت نفس کو بھی زخمی کرتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔

تعلیمی اداروں میں بھی بغیر اجازت ویڈیو بنانے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ مغرب میں اگر کسی بچے کی تصویر یا ویڈیو اجازت کے بغیر شائع ہو جائے تو یہ بہت بڑا قانونی مسئلہ بن سکتا ہے لیکن ہمارے ہاں اسے ایک معمولی سی بات سمجھا جا رہا ہے۔ بچوں کے چہروں، حرکات اور معمولات کو ہر شخص کی پہنچ میں دے دینا ان کے مستقبل کے لئے خطرناک ہو سکتا ہے۔ پرائیویسی کا احترام ایک بنیادی اصول ہے جسے ہمارے معاشرے نے نظر انداز کر دیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ انہیں خود یہ سوال اٹھانا ہوگا کہ وہ کس قسم کی ویڈیوز کو اجازت دے رہے ہیں۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں تعلیم کی کمی، سیاسی انتشار اور معاشی دباؤ پہلے ہی موجود ہو وہاں غیر اخلاقی مواد عام ہو جائے تو اس کے اثرات بہت دور تک جاتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ غیر تصدیق شدہ، اخلاقی حدود سے تجاوز کرنے والی اور نقصان دہ ویڈیوز پر نظر رکھی جائے۔

یہ رجحان اس وقت صحت مند رخ اختیار کرے گا جب ہم اجتماعی ذمہ داری کو سمجھیں۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہر ویڈیو کیوں بن رہی ہے۔ کس مقصد کے لئے بن رہی ہے۔ اسے اپ لوڈ کرنے کے کیا اثرات ہوں گے۔ ہم کیا دکھا رہے ہیں اور کیوں دکھا رہے ہیں۔ اگر یہ سوچ پیدا ہو جائے تو ویڈیو گرافی واقعی ترقی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ بصورت دیگر یہ ایک ایسا سیلاب بن سکتی ہے جو نہ صرف اخلاقی حدود کو بہا لے جائے بلکہ نسلوں کی تربیت پر بھی برا اثر ڈالے۔

معاشرے کی بہتری کے لئے اس حقیقت کو قبول کرنا ہوگا کہ ویڈیو گرافی خود کوئی مسئلہ نہیں۔ مسئلہ اس کا غیر ذمہ دارانہ استعمال ہے۔ اگر اس رجحان کو مثبت سمت میں رکھا جائے تو یہ آنے والے برسوں میں ایک مضبوط تعلیمی اور سماجی سرمایہ بن سکتا ہے۔ لیکن اگر اسے بے مہار چھوڑ دیا گیا تو یہ ہماری اخلاقی بنیادوں کو کمزور بھی کر سکتا ہے۔ اب فیصلہ ہم سب کے ہاتھ میں ہے کہ ہم اس طاقتور وسیلے کو کس طرح استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

یوسف صدیقی

post bar salamurdu

یوسف صدیقی

میرا نام یوسف صدیقی ہے اور میں ایک تجربہ کار کالم نگار اور بلاگر ہوں۔ میں نے 2009 سے تحریری دنیا میں قدم رکھا اور مختلف پلیٹ فارمز پر اپنے خیالات عوام کے سامنے پیش کیے۔ میں نے روزنامہ دنیا میں مختصر کالم لکھے اور 2014 میں بہاولپور کے مقامی اخبار صادق الاخبار میں بھی مستقل لکھائی کا تجربہ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ، میں نے ڈیجیٹل ویب سائٹ "نیا زمانہ" پر کالم شائع کیے اور موجودہ طور پر بڑی ویب سائٹ "ہم سب" پر فعال ہوں۔میری دلچسپی کا مرکز سماجی مسائل، سیاست اور عمرانیات ہے، اور میں نوجوانوں اور معاشرتی تبدیلیوں کے موضوعات پر مؤثر اور معلوماتی تحریریں پیش کرنے کے لیے کوشاں ہوں۔بلاگ نویسی کا تجربہ: میں تقریباً 15 سال سے مختلف پلیٹ فارمز پر لکھ رہا ہوں۔ میری تحریریں عوامی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button