ہم نے پینے کی قسم کھائی ہے، چھوڑی تو نہیں
پھر بھی کچھ اچھا برا بولے نگوڑی تو نہیں
ہم ہیں آلودہ بدن جتنے بھی سو تجھ سے کیا
آستیں ہم نے ترے نام نچوڑی تو نہیں
جھوٹ سے ہم نے تو توضیحِِ حقیقت کے لیئے
پردہ سرکایا، تری روح جھنجھوڑی تو نہیں
ہم نے مانا کہ رہے عور شکنجے میں بہت
اپنے آبا کی رہی رِیت جو توڑی تو نہیں
ہم نے تو بھولے سے بس یاد کیا پنگھٹ کو
کنکری مار کے گاگر تری پھوڑی تو نہیں
جب کواڑ آپ کے نفرت سے بِھڑا کرتے تھے
یاد کر لیں کہ کوئی ذات بھنبھوڑی تو نہیں
سر جھکا جائے ہے حسرتؔ کا ترے احساں سے
تو نے جو کی ہیں عنایات وہ تھوڑی تو نہیں
رشید حسرتؔ
۰۴ فروری، ۲۰۲۶








