آپ کا سلاماردو غزلیاترشید حسرتشعر و شاعری

ہم نے پینے کی قسم کھائی ہے

ایک اردو غزل از رشید حسرت

ہم نے پینے کی قسم کھائی ہے، چھوڑی تو نہیں
پھر بھی کچھ اچھا برا بولے نگوڑی تو نہیں

ہم ہیں آلودہ بدن جتنے بھی سو تجھ سے کیا
آستیں ہم نے ترے نام نچوڑی تو نہیں

جھوٹ سے ہم نے تو توضیحِِ حقیقت کے لیئے
پردہ سرکایا، تری روح جھنجھوڑی تو نہیں

ہم نے مانا کہ رہے عور شکنجے میں بہت
اپنے آبا کی رہی رِیت جو توڑی تو نہیں

ہم نے تو بھولے سے بس یاد کیا پنگھٹ کو
کنکری مار کے گاگر تری پھوڑی تو نہیں

جب کواڑ آپ کے نفرت سے بِھڑا کرتے تھے
یاد کر لیں کہ کوئی ذات بھنبھوڑی تو نہیں

سر جھکا جائے ہے حسرتؔ کا ترے احساں سے
تو نے جو کی ہیں عنایات وہ تھوڑی تو نہیں

رشید حسرتؔ
۰۴ فروری، ۲۰۲۶

post bar salamurdu

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button