شامِ فرسودگی میں دیکھ مجھے
سرخ آلودگی میں دیکھ مجھے
میں کہیں خواب ہی نہ ہو جاؤں
میری موجودگی میں دیکھ مجھے
ہم سفر جھاڑ شب گزیدہ بدن
دن کی آسودگی میں دیکھ مجھے
دیدہ ور لا جمالیاتی حِس
دل کی موجودگی میں دیکھ مجھے
لعل ہوتے ہیں گودڑی میں نہاں
خاک افزودگی میں دیکھ مجھے
کائناتی سبب ہے میرا وجود
شانِ فرمودگی میں دیکھ مجھے
شعری انداز کر رہا ہوں لطیف
دورِ بیہودگی میں! دیکھ مجھے
لطیف ساجد








