Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
جس سے مل بیٹھے لگی
سلسلہ اب بھی خوابوں کا ٹوٹا نہیں
ہمارے بارے میں کیا کیا نہ کچھ کہا ہوگا
آنکھوں کے سامنے کوئی منظر نیا نہ تھا
گھروندے خوابوں کے
دل ڈوبنے لگا ہے توانائی چاہیئے
خبر تو دور امین خبر نہیں آئے
گزر گئے ہیں جو موسم کبھی نہ آئیں گے
ٹھکانے یوں تو ہزاروں ترے جہان میں تھے
کوئی غل ہوا تھا نہ شور خزاں
جس کی نہ کوئی رات
سبھی کو اپنا سمجھتا ہوں
منیر نیازی کوئز
قریب آ کے بھی کوئی کہے نہیں ملنا
سمجھ سکے جو مری بات وہ کلام کرے
شام کے وقت ٹھکانے پہ نہیں آتا تھا
نئی زبان ملی ہے سو ایسا بولتے ہیں
یہ اب جو میری زباں پر تمہارا نام نہیں
کوئی سپاہی نہیں بچ سکا نشانوں سے
اچھا خواب دکھایا تم نے
دیہات کے مسائل
ایران میں احتجاجی طوفان
مرے پاؤں میں پائل کی وہی جھنکار زندہ ہے
ہم اس کے سامنے حسن و جمال کیا رکھتے
میں کئی برسوں سے تیری
مرا قصہ بھی آئے گا وفا کی داستانوں میں
کیسے بناؤں ہاتھ پہ تصویر خواب کی
میں اپنی وفاؤں کا بھرم لے کے چلی ہوں
کتنی دور سے چلتے چلتے
فلک پہ چاند دھرتی پر نظارے رقص کرتے ہیں
تری ڈگر کو میں اپنی نظر میں رکھتی ہوں
کبھی تعمیر ہوتی ہوں کبھی مسمار ہوتی ہوں
اسے کہنا
احساس
احساس محرومی
چالیسواں دن
ایک پھول کم پڑ جائے گا
رمِ حیات پہ پوری کتاب لکھوں گی
کبھی پرکھو تو لفظوں کو
خزاں نے ستایا نہ خاروں نے لوٹا
لمس
اُڑنے کو ہوں میں تیار مگر
وقت سے پہلے ہوئی شام
کئی سوال مچلتے ہیں ہر سوال کے بعد
آؤ نا مجھ میں اتر جاؤ غزل ہونے تک
تیرے ساتھ چلتی ہوں اک جہان جاتا ہے
کیا مٹا دو گے نام پھولوں کا
دل نے جب بھی ترا خیال کیا
وفا کی فصل پھر بونے چلی ہوں
کسی کی صدا
چھلکتی آئے کہ اپنی طلب سے
لب و رخسار و جبیں سے ملئے
آج کی رات کٹے گی کیوں کر
ذہن سے دل کا بار اترا ہے
کیا اس سے بڑھ کے
بڑے غضب کا ہے یارو
کچھ تو تعلق کچھ تو لگاؤ
یوں ہی وابستگی نہیں ہوتی
راہ طلب میں کون کسی کا
تبلیغی جماعت کا جائزہ (زمینی حالات)
ایران کے حالات
طوائف کون؟
آدھی عورت آدھا خواب
انشاؔ جی اٹھو اب کوچ کرو
آنکھوں کا تھا قصور نہ دل کا قصور تھا
تجھی سے ابتدا ہے تو ہی اک دن انتہا ہوگا
کیا تعجب کہ مری روح رواں تک پہنچے
جو طوفانوں میں پلتے جا رہے ہیں
داستان غم دل ان کو سنائی نہ گئی
تیراہ،عارضی قربانی اور مستقل امن
<<
1
...
126
127
128
129
130
131
132
133
134
135
136
...
140
>>