آپ کا سلاماردو غزلیاتارم زہراشعر و شاعری

میں اپنی وفاؤں کا بھرم لے کے چلی ہوں

ارم زہرا کی ایک اردو غزل

میں اپنی وفاؤں کا بھرم لے کے چلی ہوں
ہاتھوں میں محبت کا علم لے کے چلی ہوں

چلنے ہی نہیں دیتی تھی اک وعدے کی زنجیر
مشکل تھا مگر بار ستم لے کے چلی ہوں

کیا پوچھتے ہو مجھ سے مرے زاد سفر کا
اسباب میں بس یاد صنم لے کے چلی ہوں

جس شہر کے ہر موڑ پہ کانٹے ہی بچھے ہیں
اس شہر میں بھی زخمی قدم لے کے چلی ہوں

کوئی بھی سفر میں نے ادھورا نہیں چھوڑا
چلنا ہے تو منزل کی قسم لے کے چلی ہوں

مجھ کو ہے یقیں حرف کی حرمت پہ ہمیشہ
تنہا تھی مگر اپنا قلم لے کے چلی ہوں

خوش بخت ہے وہ جس کے مقدر میں ارمؔ ہے
میں ساتھ میں اک باغ ارم لے کے چلی ہوں

ارم زہرا

post bar salamurdu

ارم زہرا

شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں نسائی لب و لہجے کی توانا آواز ہیں شاعری افسانے سفرنامے اور کراچی کی تاریخ پر کتابیں کامیابی کے مراحل طے کر چکی ہیں-ارم زہرا روشنیوں کے شہر کراچی میں 8 دسمبر کو پیدا ہوئی ہیں ۔ کراچی یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی ہے۔ ان کی شخصیت تہہ در تہہ ہے اور ہر تہہ اپنے اندر ایک بھر پور حوالہ رکھتی ہے۔ ناول نگار،افسانہ نگار،کالم نگار، کہانی کار اور شاعر ہ کی حیثیت سے ہر پہلو مکمل اکائی ہے۔ان کی تخلیقات میں جذبوں کی بھر پور عکاسی ہوتی ہے ۔ان کی تحریر یں قاری کو فکروعمل کی دعوت دیتی ہیں۔ ان کا تعلق شعبہ تدریس سے ہے جس کا یہ پوری طرح حق اداکر رہی ہیں ۔ان کے کالموں میں تعلیمی مسائل کو احسن انداز میں اجاگرکیا جاتا ہے۔ ارم زہراء مختلف میگزین میں ایڈیٹنگ اور ٹی وی پہ ہوسٹنگ کے فرائض بھی انجام دے چکی ہیں۔ان کی اب تک چار کتب۔جن میں نثر میں چاند میرامنتظر “،” میرے شہر کی کہانی“،” ادھ کھلا دریچہ “ ’’اُف اللہ ‘‘جبکہ شعری دل کی مسند“ کتاب گھروں کی زینت بن چکے ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button