- Advertisement -

نیلگوں فضاؤں میں۔۔۔

فرزانہ نیناں کی اردو نظم

نیلگوں فضاؤں میں۔۔۔

نیلگوں فضاؤں میں۔۔۔
شور ہے بپا دل میں
شدتوں کے موسم کی چاہتیں سوا دل میں
حبس ہے بھرا دل میں
میں اداس گلیوں کی اک اداس باسی ہوں
بادلوں کے پردے سے واہموں کو ڈھکتی ہوں
خوشبوئیں ،گلابوں کے جسم سے نکلتی ہیں
روشنی کی امیدیں، کونپلوں پہ چلتی ہیں
پھر بہار آنے سے پہلے ٹوٹ جاتی ہیں
چوڑیاں بھی ہاتھوں میں ٹوٹ پھوٹ جاتی ہیں
جسم کے شگوفوں میں، رنگ چھوڑ جاتی ہیں
بس سنہرے لہجے کی روشنی ،ہے لو جیسی

فرزانہ نیناں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
فرزانہ نیناں کی اردو نظم