آپ کا سلاماردو غزلیاتارم زہراشعر و شاعری
کبھی تعمیر ہوتی ہوں کبھی مسمار ہوتی ہوں
ارم زہرا کی ایک اردو غزل
کبھی تعمیر ہوتی ہوں کبھی مسمار ہوتی ہوں
کبھی آسان لگتی ہوں کبھی دشوار ہوتی ہوں
مرے ہر روپ میں ہی دل کشی قدرت نے رکھی ہے
کبھی خوشبو کے ہالے میں گل گلزار ہوتی ہوں
کبھی محفل میں روز و شب ہوئے ہیں تذکرے میرے
کبھی بن کر خبر میں زینت اخبار ہوتی ہوں
کبھی میرے اشاروں پر بدل جاتی ہیں تدبیریں
کبھی طاقت کے ایوانوں کا اک ہتھیار ہوتی ہوں
مری تو عمر گزری ہے یوں ہی گرداب سے لڑتے
کبھی کشتی بچانے کے لئے پتوار ہوتی ہوں
کبھی میں اپنی سوچوں میں مگن رہتی ہوں روز و شب
کبھی میں اپنے دلبر کے لئے غم خوار ہوتی ہوں
ارمؔ سن کر جسے اس زندگی پر پیار آتا ہے
اسی آواز پر میں روز ہی بیدار ہوتی ہوں
ارم زہرا








