آپ کا سلاماردو غزلیاتارم زہراشعر و شاعری

کبھی تعمیر ہوتی ہوں کبھی مسمار ہوتی ہوں

ارم زہرا کی ایک اردو غزل

کبھی تعمیر ہوتی ہوں کبھی مسمار ہوتی ہوں
کبھی آسان لگتی ہوں کبھی دشوار ہوتی ہوں

مرے ہر روپ میں ہی دل کشی قدرت نے رکھی ہے
کبھی خوشبو کے ہالے میں گل گلزار ہوتی ہوں

کبھی محفل میں روز و شب ہوئے ہیں تذکرے میرے
کبھی بن کر خبر میں زینت اخبار ہوتی ہوں

کبھی میرے اشاروں پر بدل جاتی ہیں تدبیریں
کبھی طاقت کے ایوانوں کا اک ہتھیار ہوتی ہوں

مری تو عمر گزری ہے یوں ہی گرداب سے لڑتے
کبھی کشتی بچانے کے لئے پتوار ہوتی ہوں

کبھی میں اپنی سوچوں میں مگن رہتی ہوں روز و شب
کبھی میں اپنے دلبر کے لئے غم خوار ہوتی ہوں

ارمؔ سن کر جسے اس زندگی پر پیار آتا ہے
اسی آواز پر میں روز ہی بیدار ہوتی ہوں

ارم زہرا

post bar salamurdu

ارم زہرا

شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں نسائی لب و لہجے کی توانا آواز ہیں شاعری افسانے سفرنامے اور کراچی کی تاریخ پر کتابیں کامیابی کے مراحل طے کر چکی ہیں-ارم زہرا روشنیوں کے شہر کراچی میں 8 دسمبر کو پیدا ہوئی ہیں ۔ کراچی یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی ہے۔ ان کی شخصیت تہہ در تہہ ہے اور ہر تہہ اپنے اندر ایک بھر پور حوالہ رکھتی ہے۔ ناول نگار،افسانہ نگار،کالم نگار، کہانی کار اور شاعر ہ کی حیثیت سے ہر پہلو مکمل اکائی ہے۔ان کی تخلیقات میں جذبوں کی بھر پور عکاسی ہوتی ہے ۔ان کی تحریر یں قاری کو فکروعمل کی دعوت دیتی ہیں۔ ان کا تعلق شعبہ تدریس سے ہے جس کا یہ پوری طرح حق اداکر رہی ہیں ۔ان کے کالموں میں تعلیمی مسائل کو احسن انداز میں اجاگرکیا جاتا ہے۔ ارم زہراء مختلف میگزین میں ایڈیٹنگ اور ٹی وی پہ ہوسٹنگ کے فرائض بھی انجام دے چکی ہیں۔ان کی اب تک چار کتب۔جن میں نثر میں چاند میرامنتظر “،” میرے شہر کی کہانی“،” ادھ کھلا دریچہ “ ’’اُف اللہ ‘‘جبکہ شعری دل کی مسند“ کتاب گھروں کی زینت بن چکے ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button