آپ کا سلاماردو غزلیاتارم زہراشعر و شاعری

تری ڈگر کو میں اپنی نظر میں رکھتی ہوں

ارم زہرا کی ایک اردو غزل

تری ڈگر کو میں اپنی نظر میں رکھتی ہوں
ہزار پھول تری راہ گزر میں رکھتی ہوں

میں تیری یاد کو آنچل میں باندھ لائی ہوں
ترے خیال کو زاد سفر میں رکھتی ہوں

تو ایک پل بھی جدا مجھ سے ہو نہیں سکتا
میں تیری یاد کو شام و سحر میں رکھتی ہوں

مری وفاؤں کی گرمی سے تو بھی پگھلے گا
اک ایسا شعلہ میں اپنے جگر میں رکھتی ہوں

مجھے ڈرائے گا کیسے یہ پانیوں کا مزاج
میں اپنی کشتی ہمیشہ بھنور میں رکھتی ہوں

تلاش کرتے ہو تم مجھ کو چاند کے اندر
میں اپنے چہرے کا پرتو قمر میں رکھتی ہوں

ارمؔ نے شعروں سے سب کو اسیر ایسے کیا
کہ جیسے جادو میں اپنے ہنر میں رکھتی ہوں

ارم زہرا

post bar salamurdu

ارم زہرا

شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں نسائی لب و لہجے کی توانا آواز ہیں شاعری افسانے سفرنامے اور کراچی کی تاریخ پر کتابیں کامیابی کے مراحل طے کر چکی ہیں-ارم زہرا روشنیوں کے شہر کراچی میں 8 دسمبر کو پیدا ہوئی ہیں ۔ کراچی یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی ہے۔ ان کی شخصیت تہہ در تہہ ہے اور ہر تہہ اپنے اندر ایک بھر پور حوالہ رکھتی ہے۔ ناول نگار،افسانہ نگار،کالم نگار، کہانی کار اور شاعر ہ کی حیثیت سے ہر پہلو مکمل اکائی ہے۔ان کی تخلیقات میں جذبوں کی بھر پور عکاسی ہوتی ہے ۔ان کی تحریر یں قاری کو فکروعمل کی دعوت دیتی ہیں۔ ان کا تعلق شعبہ تدریس سے ہے جس کا یہ پوری طرح حق اداکر رہی ہیں ۔ان کے کالموں میں تعلیمی مسائل کو احسن انداز میں اجاگرکیا جاتا ہے۔ ارم زہراء مختلف میگزین میں ایڈیٹنگ اور ٹی وی پہ ہوسٹنگ کے فرائض بھی انجام دے چکی ہیں۔ان کی اب تک چار کتب۔جن میں نثر میں چاند میرامنتظر “،” میرے شہر کی کہانی“،” ادھ کھلا دریچہ “ ’’اُف اللہ ‘‘جبکہ شعری دل کی مسند“ کتاب گھروں کی زینت بن چکے ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button