اسلام کی اہمیت
نعمان علی بھٹی کی ایک اردو تحریر
اسلام ایک ایسا دین ہے جو صرف عبادات ہی نہیں بلکہ معاشرتی آداب اور اخلاقیات کی بھی مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ انہی خوبصورت تعلیمات میں سے ایک اہم تعلیم سلام کرنا ہے۔ سلام دراصل محبت، احترام اور خیر خواہی کا پیغام ہے۔ جب ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو "السلام علیکم” کہتا ہے تو وہ اس کے لیے امن، سلامتی اور بھلائی کی دعا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں سلام کو بہت بڑی اہمیت دی گئی ہے۔
بدقسمتی سے آج کے مصروف دور میں ہم نے بہت سی اچھی روایات کو نظر انداز کرنا شروع کر دیا ہے۔ سلام جیسی سادہ اور بابرکت سنت بھی آہستہ آہستہ کم ہوتی جا رہی ہے۔ اکثر لوگ ایک دوسرے سے ملتے ہیں لیکن سلام کرنے کے بجائے صرف سر ہلا کر یا خاموشی سے گزر جاتے ہیں۔ حالانکہ ایک چھوٹا سا لفظ "السلام علیکم” نہ صرف دلوں کو قریب لاتا ہے بلکہ محبت اور اخوت کو بھی فروغ دیتا ہے۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق سلام میں پہل کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص سلام میں پہل کرتا ہے وہ تکبر سے پاک ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سلام کرنا صرف ایک رسم نہیں بلکہ عاجزی اور محبت کا اظہار بھی ہے۔ جب ہم سلام کرتے ہیں تو ہم اپنے دل میں موجود غرور اور برتری کے احساس کو ختم کرتے ہیں۔
سلام کی ایک اور خوبصورتی یہ ہے کہ یہ معاشرے میں بھائی چارے کو مضبوط کرتا ہے۔ جب لوگ ایک دوسرے کو سلام کرتے ہیں تو دلوں میں محبت پیدا ہوتی ہے اور نفرتیں کم ہونے لگتی ہیں۔ ایک معاشرہ جہاں لوگ ایک دوسرے کو عزت اور محبت دیتے ہوں، وہ معاشرہ ہمیشہ مضبوط اور خوشحال ہوتا ہے۔
آج کے دور میں جہاں ہر طرف بے چینی اور پریشانی کا ماحول نظر آتا ہے، وہاں سلام جیسی سنت معاشرے میں سکون اور محبت پیدا کر سکتی ہے۔ اگر ہم اپنے گھروں، محلوں اور دفاتر میں سلام کو عام کر دیں تو ماحول خود بخود خوشگوار ہو سکتا ہے۔ ایک مسکراہٹ کے ساتھ کیا گیا سلام کسی کے دل کو خوشی سے بھر سکتا ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو سلام کی اہمیت سے آگاہ کریں۔ بچوں کو شروع سے ہی یہ سکھایا جائے کہ جب وہ گھر میں داخل ہوں تو سلام کریں، جب بڑوں سے ملیں تو ادب کے ساتھ سلام کریں۔ اس طرح نہ صرف اسلامی اقدار زندہ رہیں گی بلکہ بچوں کی شخصیت میں بھی شائستگی اور احترام پیدا ہوگا۔
اسلامی تاریخ میں ہمیں بے شمار مثالیں ملتی ہیں جہاں صحابہ کرامؓ سلام کو عام کرنے میں بہت آگے تھے۔ وہ راستے میں ملنے والے ہر شخص کو سلام کرتے تھے، چاہے وہ جان پہچان والا ہو یا اجنبی۔ اس سے معاشرے میں محبت اور بھائی چارہ بڑھتا تھا۔
آج ہمیں بھی اسی سنت کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم روزمرہ زندگی میں سلام کو اپنا معمول بنا لیں تو نہ صرف ہمیں اجر و ثواب ملے گا بلکہ ہمارا معاشرہ بھی محبت اور امن کا گہوارہ بن سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ سلام صرف ایک لفظ نہیں بلکہ ایک پیغام ہے، ایک دعا ہے اور ایک خوبصورت اسلامی روایت ہے۔ اگر ہم اسے اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو ہمارے تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں اور معاشرے میں محبت اور بھائی چارے کی فضا قائم ہو سکتی ہے۔
خیر اندیش
نعمان علی بھٹی








