آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمز

پروفیسر گوہر نوید کے تنقیدی نظریات کا جائزہ

مدثر عباس کی ایک اردو تحریر

”بہ قول ایلیٹ ، ہر عظیم فن پارہ اپنے ساتھ نئے تنقیدی پیمانے لے کر آتی ہے اور ہر فن پارے کی تخلیق پچھلی قائم کردہ تمام درجہ بندیوں کو درہم برہم کردیتی ہے”یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آج تنقید کا معیار بہت بلند ہے، تنقید نے نئی نسل میں شعور پیدا کیا کہ وہ ادب کے ساتھ ساتھ زندگی میں بھی سوالات پیدا کرتے ہیں او ر اُن اُصولوں کے خلاف جاتے ہیں جو لوگوں کے اپنے قائم کردہ اُصول ہیں۔
اس لیے اُردو ادب میں بیسیوں نقاد گزر چکے ہیں اور اُس میں کئی ایک دوسروں کے تنقید پر اعتراض کرکے نئے فن پارے قائم کیے ہیں۔اُن نقادوں میں ایک نام پروفیسر گوہر نوید کا بھی ہے۔آپ کے بارے میں اسحاق وردگ کہتے ہیں:
”تنقید کی آزادی میں گوہر نوید کے قلم کی روشنی بھی شامل ہے ۔ اس جہانِ امکان میں کئی معجزے موجود ہیں۔بس اُسے ایک خاص قرینے سے تنقید کی خودی کو مزید دریافت کرنا ہے تاکہ پختون خوا کی اُردو تنقید کو سچ کہنے کا سلیقہ آجائے ۔یہ زمہ داری گوہر نوید کو ہم نے نہیں وقت اور تاریخ نے سونپی ہے”
پروفیسر گوہر نوید ادب کے ہر گوشے کے ساتھ انصاف کے لیے پر عزم ہیں اور یہ خوبی انھیں دوسرے نقادوں سے ممتاز کرلیتا ہے جس کی وجہ سے پروفیسر گوہر نوید ترقی پسندیت اور رومانویت کے سنگھم پر کھڑے نظر آتے ہیں اور یہ بات مردان کے تمام ناقدین مانتے ہیں ۔
پروفیسر گوہر نوید نے ن م راشد(نذر محمد راشد) کی شاعری پر دل کھول کر تنقید کی ہے ۔ انھوں نے ن م راشد کے کی شاعری پر جو تنقیدی مضامین لکھے ہیں اِ س سے پڑھنے والا صرف مردہ خیال سے اختلاف نہیں کرسکتا بلکہ یوں خیال کیا جاسکتا ہے کہ ایک سچے اور امین نقاد میں خصوصیت پائی جاتی ہیں یا جن خصوصیت کی ضروت ہو وہ تمام پروفیسر گوہر نوید میں پائے جاتے ہیں ۔ ن م راشد کی شاعری کے بارے میں وہ لکھتے ہیں :
”راشد کے داخل سے جب بغاوت کا لاوا اُگلتا ہے تو کُہنگی کے تصورات کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کردیتا ہے اور پھر رفتہ رفتہ اس لاوے سے نکلنے والے شرارے شعلے بن کر آسمان تک پہنچنتے ہیں۔ خاشاک غیراللہ کو پھونک ڈالنے کے بعد بغاوت کے آخری حدود کوپھلانگتے ہوئے وہ خُداکے حضور میں بھی گستاخی کے مرتکب ہوجاتے ہیں اور ایسے شعر تخلیق کرنے لگتے ہیں جن میں مذہب ، تصوف م اور مروجہ تصورات کا مزاق اُڑایا جاتا ہے”
پروفیسر گوہر نوید نے اس مضمون میں جو زاویۂ نظر اختیار کیاہے اس اختلاف نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ نظم جدید کے شاعر ن م راشد کے ہاں ایسے موضوعات ملتے ہیں جن میں گمراہانہ سوچ اور توہین آمیز تصورات ملتے ہیں اور یہ سوچ ادب اور مذہب کے درمیان قائم کردہ فاصلوں کو ختم کرتی ہے۔ اس مضمون کے زاویہ نظر میں ن م راشد کی ایک نظم ”پہلی کرن میں کہتے ہیں :

خُدا کا جنازہ لیے جارہے ہیں فرشتے
اسی ساحر بے نشاں کا
جو مغرب کا آقا تھا مشرق کا نہیں تھا

ن م راشد کا انسان باقاعدہ ارتقائی مراحل طے کرتا ہے اور راشد کا انسان جنس کے ساتھ ساتھ معاشرتی ، سیاسی اور اجتماعی مسائل کا بھی شکار نظر آتا ہے ۔ ن م راشدکاانسان خارج کا مناظرہ و مشاہدہ کرکے واپس اپنے داخل کی طرف مڑ کر آتا ہے اور جب آتا ہے تو اُس کی واپسی مکمل ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ راشد کا انسان خُدا کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہے۔

پروفیسر گوہر نوید کسی فن پارے کو پرکھنے کے لیے ادبی اور جمالیاتی قدروں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ اس سے ادب کو کیا فائدہ ہوگا اور عام قاری اس سے کتنا فائدہ اُٹھا سکتا ہے ۔ یہاں یہ عرض بھی ضروری ہے کہ اُصولِ تنقید کے معاملے میں پروفیسر گوہر نوید کا رویہ کتنا ہی سخت اور بے لچک سہی لیکن عملی تنقید میں جب وہ کسی فن پارے پر تنقید کرتے ہیں تو یہ شدت کسی حد کم ہوجاتی ہے اور تنقید میں افادیت کے ساتھ دوسرے پہلووں کو بھی مدنظر رکھتے ہیں۔اس کے علاوہ موصوف اُس ادب کے حق میں ہیں جو عوام کی امنگوں کا ترجمان ہواور عوام کے مقاصد کو پورا کرے اور اُن کی زندگی کو خوش گوار بنائے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ ادب عوام کی ترجمان ہوتی ہے یا نہیں ؟ یعنی شعر و ادب میں حسن اُسی وقت پیدا ہوتا ہے جب فنی تقاضو کو پورا کیا جائے ۔ ادب میں دو چیزیں ہوتی ہیں ایک وہ بات جو کہی جارہی ہے، دوسرا وہ انداز جس میں وہ بات کہی جارہی ہے۔ ایک کو موضوع اور دوسرے کو اسلوب و ہئیت کہتے ہیں۔ اس لیے پروفیسر گوہرنوید نے انتہائی آسان بھاشا میں تنقید پر بحث کرتے ہوئے قاری کو ایک آسان اور سلیس انداز میں تنقید کے عمل کو بیان کیا ہے۔ وہ مشکل الفاظ کے بجائے آسان الفاظ کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس لیے انھوں نے احمد فراز کی مشکل پسندی پر اعتراض کیا ہے۔ اس کے علاوہ وہ شاعری میں رومانوی حجاز کے ساتھ ساتھ حقیقت پسندی کا بھی قائل ہے وہ کہتے ہیں : شاعر اپنے روح عصر کا ترجمان ہوتا ہے اس لیے شاعری جتنی حقیقت پسند ہوگی اتنا ہی اس کا معیار بلند ہوگا۔ مندرجہ بالا عبارت سے ثابت ہوتا ہے کہ پروفیسر گوہر نوید مردان کا جئنوئن اور امین نقاد ہے ۔

مدثر عباس

post bar salamurdu

مدثر عباس

مدثر عباس کا تعلق ضلع مردان کے نواحی علاقے لوند خوڑ سے ہے۔ وہ جامعہ پشاور میں اُردو زبان و ادب(ایم فل) کے طالبِ علم ہیں اور علمی و فکری جستجو سے گہری وابستگی رکھتے ہیں۔ تاریخ اور تاریخی کتب سے خاص شغف ان کے مطالعے کو وسعت بخشتا ہے، جب کہ مسلسل اور وسیع مطالعہ ان کی فکری تشکیل میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ مختلف سیاسی، سماجی اور تاریخی موضوعات پر وقتاً فوقتاً قلم اُٹھاتے ہیں، جہاں ان کی تحریروں میں مطالعے کی گہرائی اور سنجیدہ فکری رجحان جھلکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button