- Advertisement -

 جل پری

منزہ سیّد کی ایک اردو نظم

جل  پری

میں ہوں تیرےخواب کی جل پری
ترے زاویے میں ڈھلی ہوئی
تری آرزو میں بسی ہوئی
ترے ہر خیال کی دلکشی
تری مست چال کی دلکشی
تری گفتگو کا کمال ہوں
ترا حسنِ ذوقِ جمال ہوں
تری مستیوں کی حبیب ہوں
ترے بےتحاشا قریب ہوں
تری روح میں ترے چار سو
تری بےقرار سی جستجو
تری دھڑکنوں کی صداؤں میں
تجھے چھونے والی ہواؤں میں
تری چشمِ تر کی گھٹاؤں میں
تری حسرتوں کی دعاؤں میں
تری مے کشی تری شام میں
ترے چھلکے چھلکے سے جام میں
ترے دل کے شیشے میں چارہ گر
مرا عکسِ رنگیں تو ہے مگر
ترے لمس کی سر گزشت میں
تری زندگی کی نوشت میں
مرے مہرباں ! میں کہیں نہیں
کہیں بھی نہیں میں کہیں نہیں

منزہ سیّد

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ڈاکٹر وحید احمد کی ایک اردو نظم