آپ کا سلاماردو شاعریاردو غزلیاتناصر زملؔ

آج تو اور کے سینے سے

ناصر زملؔ کی ایک اردو غزل

آج تو اور کے سینے سے لگا لگتا ہے
قطرہ قطرہ بھی تو دریا سے جدا لگتا ہے

میرا رونا تجھے مجنوں کی صدا لگتا ہے
گر یہ لگتا ہے تو چپکے سے بتا لگتا ہے

خط کو پھولوں میں لپیٹا ہے کوئی دیکھ نہ لے
خط کی خوش بو سے لکھاری کا پتا لگتا ہے

بعد برسوں کے میں سویا ہوں اسے سوچے بغیر
آج پوری ہوئی ہے اسکی دعا لگتا ہے

ایک گونگی ہے سہیلی جو اسے ہے بھاتی
میں جو کرتا ہوں اشارے تو برا لگتا ہے

جس قدر خُونچَکاں کمرے کا اندھیرا ہے زمل
یہ دیا آنکھ کے پانی سے بجھا لگتا ہے

 

ناصر زملؔ

ناصر زملؔ

ناصر زملؔ قلمی نام : زملؔ ضلع : وہاڑی ناصر زملؔ پاکستان ضلع وہاڑی سے تعلق رکھنے والے نوجوان شاعر ہیں ۔ انکا پہلا مجموعہ شاعری جنوری 2024 کو شائع ہوا جس کا نام "سحرِ بیاں" ہے جو " سرائے اُردو پبلیکیشن سیالکوٹ" پر دستیاب ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button