Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
پاکستان اور خلیج
آصف الدولہ
مر گیا غم میں ترے ہائے
جس دم ترے کوچے سے
آتا ہے تیغ ہاتھ میں وہ جنگجو لیے
آنکھوں سے اپنی آصفؔ تو احتراز کرنا
قاصد تو لیے جاتا ہے پیغام ہمارا
سینے میں داغ ہے تپش انتظار کا
دل دیا جی دیا خفا نہ کیا
یہ ڈر مجھے تیرا ہے کہ میں
ملنے کو تجھ سے دل تو مرا بے قرار ہے
پوچھتے کیا ہو مرے تم دل دیوانے سے
ہم نے قصہ بہت کہا دل کا
اخلاص کے ساتھ انفاق
ڈیجیٹل دہشتگردی
روایات سے روشنی تک
یادوں کی چھاؤں اور بدلتی دنیا
دام الفت میں پھنسا دل ہائے
جس گھڑی تیرے آستاں سے گئے
بسمل کسی کو رکھنا
اس ادا سے مجھے سلام کیا
کہاں یہ خون میں لَت پَت
اک ہنر دیدۂ خوش آب میں رکھا ہم نے
دھب ہے ، کہنے سے یہ سب
نشاط اور اُداسی نہیں ہے کم سے کم
ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ غم کچھ نہیں کہتے
خیرات ، بجز حسّنِ مودّت نہیں مانگی
بھنور، برہم ہوائیں، گم کنارا
تجھ پر مری رسوائی کا الزام تو ہے نا
سرِ بامِ تمنا مشعلِ مژگاں جلا بیٹھے
ساحل سے واپس ہو لیے
شام ِ رُخصت کہ ترستی ہی چلی جاتی ہے
اب کے یوں اس کو صدا دی جائے
کیسا تارا ٹوٹا مجھ میں
نذیر قیصر کی شاعری
میں دیکھتا ہوں خواب کی تعبیر وغیرہ
اِس مُلک سے اب صِرف اتنی
جب دیکھنا تو آنکھ کے اُس پار دیکھنا
طلبہ کی زندگی اور ہماری ذمہ داری
انسان کے اندر مثبت و منفی قوتیں
تاج ہاؤس
والدین کی محنت
قلم اور صفحہ کی گفتگو
ہر چٹھی ایک ہی پتے پر
میری بے حوصلگی اس سے سوا اور سہی
عالؔی جس کا فن سخن میں
شہروں میں تفریحی سہولیات کی کمی
عمر بھر بہ آسانی بار غم اٹھانے سے
نظروں سے بصیرت کی نہاں
کچھ اس لیے مجھے لٹنے کا
کیا کیا دئے فریب ہر اک اعتبار نے
اب تک مجھے نہ کوئی مرا رازداں ملا
آپے روواں آپے ہسّاں
نیا عزم اورپرانی یادیں- نیا سال مبارک ہو
اڈدی نئیں اسماناں اتے
حقیقی حفاظت
سعادت حسن منٹو
ایہہ ہمسائے، ایہہ ماں جائے
جیہڑی بُوٹی دِل وِچ لائی
سارے اِکو رنگ دے لوک
کریں نہ ایتھے روپ دا مان
کوئی دیویں کم دی مَت بِھرا
کورے ورق پلٹ دا جا
کیہڑا کیہڑا رونا روئیے
گُنگے بولے ساڈے یار
وِچ جنگلاں دے سَد پئی ماراں
ٹرین ایپ کی داستان
خاموش موت کے پیامبر
غلام سے امامِ امت تک
بدن بھیگیں گے برساتیں رہیں گی
<<
1
...
125
126
127
128
129
130
131
132
133
134
135
...
140
>>