Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
اِدھر اُدھر میں نہیں
اپنا ملن کسی کی دلی
گرے مکاں میں دبی کہکشاں
جو خوشبوؤں سے غلط فائدہ اٹھاتا ہے
وہ پچھلے موڑ پر اس راستے
فلک کے پار اڑانوں کی
سلسلہ وار شجر کٹتے
کہیں دیوار، کہیں چھت، کہیں در
اک ادا سے آئے گا، بہلائے گا، لے جائے گا
اچھے دن آنے والے ہیں
جو لفظ چِھین کے اِظہارکھینچ لیتی ہے
سُکُوں دے کر یہ کیا مُشکل
گُلوں کی پالکی میں ہے
مہنگائی کا اِک آیا ہے طُوفان یقیناً
عہد طفلی
مرزا غالب
وُه شور ہے کہ یہاں کُچھ سُنائی دیتا نہیں
تمام عُمر اُسے مُجھ سے اِختِلاف رہا
شِکستہ دِل، تہی دامن، بچشمِ تر گیا آخر
کُچھ نہِیں پایا ہے ہم نے
لوگو! مُجھے اِس شہر کے آداب سکھا دو
یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم
اپنی تنہائی مرے نام پہ آباد کرے
قومی یکجہتی وقت کی ضرورت
گلاب ہاتھ میں ہو ، آنکھ میں ستارہ ہو
وہی پرند کہ کل گوشہ گیر ایسا تھا
بوڑھا تھا مگر عین جوانی میں کھڑا تھا
فلک پہ لے گا نہ مُجھ کو
مَیں شعر کہوں گا تو پذِیرائی کرے گا
تُمہارے نام لگا دی ہیں
بوگس شناختی کارڈ
کیڈٹ کالج وانا
سوشل میڈیا اور گُم ہوتی سنجیدہ آوازیں
میڈم – ناولٹ (قسط نمبر 4 آخری)
بِچھڑا وہ گویا زِیست میں آیا کبھی نہ تھا
کِسی نے ہم سے کہا تھا گُلاب چھاپیں گے
تُو اپنے یاد خزانے سنبھال کر لے جا
اپنے آبأ کا گھر بیچنا ہے
خلوص و پیار کے سانچے میں
خیبر پختونخوا امن جرگہ کا اعلامیہ
والدہ مرحومہ کی یاد میں
میٹھی سی چاندنی ہے
غم_ زندگی نے ستایا بہت ہے
27 ویں آئینی ترمیم کے خلاف
پریم چند کی افسانہ نگاری
تصنیف وتالیف کی اہمیت
کسی دن آؤ
جج صاحب سیاست میں
بھلا اجڑے گھروندوں سے
تو ہے کہ جس کے واسطے
گِلہ کرنے پہ بھی مَیں
دیکھنا اعصاب وہ اک شخص
ہم نے اپنی زندگی جن میں گزاری
یہ کیا کہ اک جہاں کو کرو وقفِ اضطراب
کھمبیاں جمع چھچھورے اور میڈیا انفلوئنسرز
مختصر مگر اہم بات
اِنسانی نسلیں اور معاشرتی ترقی
رکھیں گے دل کے قریں تم کو
بے دم سا ترا لے کے میں احسان پڑا ہوں
گلاب چہرہ بہاروں میں آ کے بیٹھ گئے
تختِ دل اس نے چنا پھر
بیتے دنوں کی یاد بھلائے نہیں بنے
الفاظ کے چنگل کے نہیں
بریدہ سر تھے مرے خواب
ایک چہرہ بدلنے والے کے نام
مِٹھڑی (ہمارا گاؤں)
دکھوں میں سرپرستی آپ نے کی
تعلیم، ہنر اور روزگار
رشید حسرتؔ
یاد کے دریچے
<<
1
...
120
121
122
123
124
125
126
127
128
129
130
...
140
>>