آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

جج صاحب سیاست میں

ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی

پاکستان کی سیاست ہمیشہ سے عدالتوں کے ارد گرد گھومتی آئی ہے۔ کبھی فیصلے سیاست کو نئی سمت دیتے ہیں اور کبھی سیاست عدالتی فیصلوں کے وزن کو بدل دیتی ہے۔ مگر حالیہ ہفتوں میں پیش آنے والا منظر نامہ ان تمام مناظر سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ سپریم کورٹ کے دو ججز منصور علی شاہ اور اطہر من اللہ نے ایسے وقت میں استعفے پیش کیے جب ملک ایک نئے آئینی تنازعے کے دہانے پر کھڑا ہے۔ ان استعفوں نے عدالت کی دیواروں میں لرزہ پیدا کر دیا ہے اور ریاستی اداروں کے توازن پر گہرے سوالات اٹھا دیے ہیں۔

اگر کوئی جج برسوں اہم آئینی فیصلوں کا حصہ رہے اور پھر ایک سیاسی ماحول کی شدت کے دوران استعفی پیش کر دے تو ضروری ہے کہ اس کے محرکات پر نظر ڈالی جائے۔ ہمارے نظام میں جج صرف فیصلے نہیں دیتے بلکہ ان کے فیصلے ملک کا بیانیہ طے کرتے ہیں۔ کبھی ایک فیصلہ ریاست کے ستونوں کو سہارا دے دیتا ہے اور کبھی ایک فیصلہ ریاست کے بنیادی ڈھانچے میں دراڑ ڈال جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان دو ججوں کے استعفے محض ذاتی فیصلے نہیں بلکہ ریاستی نظام کے لئے ایک بڑا واقعہ ہیں۔

اطہر من اللہ کے ماضی پر نظر ڈالیں تو واضح ہوتا ہے کہ کئی مقدمات میں انہوں نے ایسی رعایتیں دیں جن پر نہ صرف عوام نے سوالات اٹھائے بلکہ قانونی ماہرین نے بھی حیرت کا اظہار کیا۔ خاص طور پر ان مقدمات میں جہاں بیرون ملک بیٹھے افراد پاکستان کے اندر شدت سے سیاست کرتے تھے یا ریاستی اداروں پر زبان درازی کو معمول بنا چکے تھے۔ عدالت کے فیصلوں کا مقصد ہمیشہ انصاف کا راستہ کھولنا ہوتا ہے مگر جب رعایتیں اس انداز میں دی جائیں کہ ملکی بیانیہ متاثر ہو تو سوالات اٹھنا قدرتی بات ہے۔ ایسے حقائق اب کسی سے پوشیدہ نہیں رہے کہ عدالت کے بعض فیصلے براہ راست سیاسی بیانیے کو سہارا دیتے رہے۔

منصور علی شاہ کا معاملہ بھی مختلف نہیں۔ وہ زبان و بیان میں مہارت رکھتے ہیں اور آئینی مباحث میں خود کو اصول پسندی کا نمائندہ قرار دیتے آئے ہیں مگر عدالتی تاریخ میں اصول پسندی صرف تقریروں اور تحریروں سے ثابت نہیں ہوتی بلکہ اس کا اصل امتحان فیصلوں میں ہوتا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ انہوں نے خود ان ترامیم پر برسوں کوئی واضح اختلاف نہیں دکھایا جنہیں وہ آج عدلیہ پر حملہ قرار دے رہے ہیں۔ ان کا مؤقف اچانک بدل گیا یا سیاسی فضا نے ان کے اندر نیا ضمیر جگا دیا یہ سوال عوام پوچھنے میں حق بجانب ہیں۔

عدالت کا کام سیاسی میدان کو سنبھالنا نہیں ہوتا۔ یہ کام پارلیمنٹ کا ہے۔ مگر جب کسی جج کے فیصلے ایک مخصوص سیاسی جماعت کے ترجمانی کرتے دکھائی دینے لگیں تو ریاست کا توازن ڈگمگانے لگتا ہے۔ اب صورت حال یہ ہو چکی ہے کہ ان دونوں ججوں کے استعفے ایک خاص سیاسی جماعت کے ہاں جشن کے طور پر اور ریاستی اداروں کے اندر تشویش کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔ کیا یہ ایک جج کے شایان شان ہے کہ اس کا استعفی کسی جماعت کی فتح قرار دیا جائے یا اس کی رخصتی کو سیاسی فائدہ سمجھا جائے۔ عدلیہ اگر اس نہج تک پہنچ جائے تو یہ پوری قوم کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔

پاکستان میں عدلیہ پر عوام کا اعتماد پہلے ہی کئی بحرانوں سے گزر چکا ہے۔ کبھی نظریہ ضرورت نے عدالت کی عزت کو آلودہ کیا اور کبھی طاقتور حلقوں کے دباؤ نے فیصلوں کا رخ بدلا۔ مگر موجودہ صورتحال اس سے بھی زیادہ سنگین ہے کیونکہ یہ پہلی بار ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے دو اہم جج خود میدان چھوڑ کر ایک ایسا منظر بنا گئے ہیں جس سے عدلیہ کے وقار پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ اگر انصاف کی کرسی چھوڑنے والے ہی سیاسی بیان چھوڑ کر جائیں تو عام آدمی کس دروازے پر جا کر اپنے حقوق کی حفاظت کرے گا۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ عدلیہ کے اندر ہمیشہ سے دو دھڑوں کی لڑائی موجود رہی ہے۔ ایک وہ جج جو خود کو ریاست کے ضامن سمجھتے ہیں اور دوسرے وہ جو سیاسی ہوا کے رخ کے مطابق چلتے ہیں۔ اس استعفے نے اس تقسیم کو مزید واضح کر دیا ہے۔ اب ہر باخبر قاری یہ سوال پوچھ رہا ہے کہ کیا یہ استعفی اصول کی خاطر تھا یا ایک مخصوص جماعت کی غیر علانیہ حمایت کا نتیجہ۔ کیا عدلیہ کی دیواروں میں موجود دراڑیں خود بخود بڑھ رہی ہیں یا انہیں بڑھانے میں کچھ ہاتھ مصروف ہیں۔

یہ کالم کسی شخصیت کی دشمنی پر نہیں بلکہ اصول کی بات کرتا ہے۔ اصول یہ کہ کوئی جج سیاسی نقشہ سازی میں حصہ دار نہیں بن سکتا۔ وہ آئین کا محافظ ہے اور آئین اسے غیر جانب داری کا پابند بناتا ہے۔ اگر جج خود سیاسی بیانیہ بننے لگیں تو انصاف کا پلڑا کبھی برابر نہیں رہ سکتا۔

اب ضرورت ہے کہ عدلیہ اپنی صفوں میں موجود کمزوریوں کا جائزہ لے۔ شفافیت بڑھائے۔ فیصلوں کو اصولی بنیادوں پر استوار کرے۔ پارلیمنٹ کو بھی اس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ عدلیہ اور سیاست کی ٹکر ہمیشہ ملک کے لئے زہر ثابت ہوئی ہے۔ ہمیں ایک ایسا نظام درکار ہے جہاں عدالتیں سیاست سے پاک ہوں اور سیاست عدلیہ سے خوفزدہ نہ ہو۔

آخر میں قوم کے ذہنوں میں صرف ایک سوال گونج رہا ہے۔ کیا ان ججوں نے واقعی آئین کی حفاظت کے لئے اپنے عہدے چھوڑے یا یہ استعفے ایک سیاسی بیانیے کو طاقت دینے کے لئے پیش کیے گئے۔ قوم کو اس سوال کا جواب ملنا چاہیے کیونکہ عدلیہ کا وقار محفوظ رہے گا تو ریاست مضبوط رہے گی۔

یوسف صدیقی

۔

post bar salamurdu

یوسف صدیقی

میرا نام یوسف صدیقی ہے اور میں ایک تجربہ کار کالم نگار اور بلاگر ہوں۔ میں نے 2009 سے تحریری دنیا میں قدم رکھا اور مختلف پلیٹ فارمز پر اپنے خیالات عوام کے سامنے پیش کیے۔ میں نے روزنامہ دنیا میں مختصر کالم لکھے اور 2014 میں بہاولپور کے مقامی اخبار صادق الاخبار میں بھی مستقل لکھائی کا تجربہ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ، میں نے ڈیجیٹل ویب سائٹ "نیا زمانہ" پر کالم شائع کیے اور موجودہ طور پر بڑی ویب سائٹ "ہم سب" پر فعال ہوں۔میری دلچسپی کا مرکز سماجی مسائل، سیاست اور عمرانیات ہے، اور میں نوجوانوں اور معاشرتی تبدیلیوں کے موضوعات پر مؤثر اور معلوماتی تحریریں پیش کرنے کے لیے کوشاں ہوں۔بلاگ نویسی کا تجربہ: میں تقریباً 15 سال سے مختلف پلیٹ فارمز پر لکھ رہا ہوں۔ میری تحریریں عوامی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button