لوگو! مُجھے اِس شہر کے آداب سکھا دو
ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی
پاکستان کے شہروں میں زندگی آج پہلے سے کہیں زیادہ تیز رفتار اور پیچیدہ ہو گئی ہے۔ صبح کے وقت بازاروں میں شور، ٹریفک میں پھنسے ہوئے لوگ، بسیں اور رکشے، ہر طرف ایک عجیب ہڑبڑی اور بے صبری کا منظر پیش کرتے ہیں۔ گلیوں میں کبھی بچوں کی ہنسی اور بزرگوں کی باتیں سنائی دیتی تھیں، آج وہاں بے ترتیبی، گندگی اور افراتفری چھائی ہوئی ہے۔ ایسے مناظر دیکھ کر دل میں ایک بے چینی پیدا ہوتی ہے کہ ہم اپنی شہری روایات سے کتنے دور ہو گئے ہیں۔
شہروں میں رواداری اور برداشت کی کمی نمایاں ہے۔ محلے میں چھوٹے جھگڑے، بازار میں دھکم پیل، ٹریفک میں بے صبری یہ سب ہمارے معاشرتی رویوں میں تبدیلی کی نشانی ہیں۔ بزرگوں کا احترام، خواتین اور بچوں کی حفاظت اور دوسروں کی ضروریات کا خیال رکھنے جیسے بنیادی اصول کہیں نظر نہیں آتے۔ لوگ اپنی ذاتی زندگی میں اتنے مگن ہیں کہ دوسروں کی فکر کرنا بھول گئے ہیں۔
نوجوان نسل سب سے زیادہ دباؤ اور بے چینی کا شکار ہے۔ مہنگائی نے ہر گھر کے بنیادی مسائل کو مزید بڑھا دیا ہے۔ خوراک، تعلیم، ٹرانسپورٹ، بجلی اور گیس یہ سب روزانہ کے بوجھ میں شامل ہیں۔ نوجوان تعلیم کے باوجود روزگار نہ ہونے کی وجہ سے مایوس ہیں۔ امتحانات، کورسز اور مستقبل کی عدم یقینی سب ان پر اضافی دباؤ ڈال رہے ہیں۔ نوجوان اپنے گھر اور معاشرے میں اپنی صلاحیتوں کے باوجود محدود مواقع دیکھ کر پریشان اور غمگین ہوتے ہیں۔
شہروں کی بڑھتی ہوئی آبادی اور اس کے اثرات بھی شہری زندگی کو مشکل بنا رہے ہیں۔ رہائش کی کمی، ٹریفک کے مسائل، صفائی کی ناکافی سہولتیں اور بنیادی شہری سہولیات کی کمی روزمرہ زندگی کو متاثر کر رہی ہیں۔ بڑے شہر جیسے کراچی، لاہور یا اسلام آباد کے روزانہ کے ٹریفک مناظر اور بازار کی ہلچل دکھاتے ہیں کہ لوگ اپنی ذاتی مشکلات اور مسائل میں مصروف ہیں اور چھوٹے تنازعات اکثر بڑے جرائم میں بدل جاتے ہیں۔ چوری، لوٹ مار، اغوا اور دیگر سماجی جرائم معمول بن گئے ہیں۔ قانون پر اعتماد کم ہوا ہے اور ہر شخص اپنی حفاظت کے لیے محتاط رہتا ہے۔
بے روزگاری اور اقربا پروری نوجوانوں کی مایوسی میں اضافہ کر رہی ہے۔ اداروں میں میرٹ کی بجائے رشتہ داروں یا جان پہچان والوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ یہ رویہ نوجوانوں کی محنت اور صلاحیتوں
کو نظر انداز کرتا ہے اور معاشرت میں توازن خراب کرتا ہے۔ ایسے حالات میں نوجوان مایوسی کے سبب غلط راستوں کی طرف بھی جا سکتے ہیں اور معاشرے کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
شہری آداب اور معاشرتی روایات کا زوال بھی نمایاں ہے۔ محلے کی صفائی، ہمسائیگی، مہمان نوازی اور بڑوں کا احترام اب کمزور پڑ گئے ہیں۔ ایک چھوٹا محلہ، جس میں کبھی بچے کھیلتے، بزرگ بیٹھ کر باتیں کرتے اور لوگ ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے، آج وہاں شور، گندگی اور لاپرواہی کا منظر عام ہے۔ شہری رویوں میں یہ تبدیلی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہمیں دوبارہ اپنے معاشرتی اصول اپنانے کی ضرورت ہے۔
اس سب کو دیکھ کر شدید فکری دباؤ اور بے چینی پیدا ہوتی ہے۔ ہر روز سڑکوں پر شور، بدتمیزی اور عدم برداشت کے مناظر دیکھ کر دل غم سے بھر جاتا ہے۔ نوجوان نسل کا مستقبل خطرے میں ہے، بزرگوں کی عزت کم ہو رہی ہے، اور محلے کے چھوٹے آداب نظر انداز کیے جا رہے ہیں۔ یہ سب دیکھ کر انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ ہم اپنی قدیم شہری روایات اور آداب سے کتنے دور ہو گئے ہیں۔
امید کی کرن ابھی باقی ہے۔ ہمیں اپنی اقدار اور شہری آداب کو یاد کرنا ہوگا۔ مہمان نوازی، ہمسائیگی، برداشت اور دوسروں کے لیے محبت دوبارہ اپنانا ہوگی۔ چھوٹے چھوٹے اعمال، جیسے بزرگوں کو سلام کرنا، محلے کی صفائی میں حصہ لینا، خواتین اور بچوں کی حفاظت کرنا، اور دوسروں کے لیے صبر اور رواداری دکھانا، ایک بہتر شہر کی بنیاد بنتے ہیں۔
یہ کالم صرف میرے خیالات نہیں ہیں، بلکہ ہر شہری کے لیے ایک فکری پیغام ہونا چاہیے۔ ہر فرد کو اپنی روزمرہ زندگی میں یہ آداب اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے شہر دوبارہ پرامن، خوشحال اور انسانی پہچان کے حامل بن سکیں۔ شہری زندگی صرف سہولیات یا عمارتوں کا نام نہیں، بلکہ انسانوں کے رویوں، ان کے آداب اور دوسروں کے لیے محبت سے جڑی ہوئی ہے۔
جب تک ہم یہ اصول اپنانے میں کامیاب نہیں ہوں گے، ہمارے شہر مکمل طور پر خوشحال اور پرامن نہیں ہو سکتے۔ پاکستان کے ہر شہر، محلہ اور گلی میں یہ تبدیلی ممکن ہے۔ ہمیں بس اپنی فکر اور اعمال کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ بزرگوں کا احترام، بچوں کی حفاظت، ہمسائیگی میں تعاون اور معاشرتی اصولوں کی پاسداری یہ سب ہمارے ہاتھ میں ہے۔ ہمارے اعمال اور رویے ہی ہمارے شہروں کی پہچان ہیں۔
آئیے اپنے اعمال اور رویوں سے یہ ثابت کریں کہ ہم اپنے معاشرتی اصولوں اور شہری آداب کے محافظ ہیں۔ صرف تبھی ہم اپنے شہروں کو دوبارہ قابلِ رہائش، خوشحال اور پرامن بنا سکتے ہیں۔
یوسف صدیقی








