Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
چھین کر میری ہر خوشی مجھ سے
بیکار ہے سب شکوۂ حالات وغیرہ
اگرچہ لاکھ زمانے میں
دھول اُڑاتی تیز ہوا کے وار سے بچیے
تمہارا بدن میرا احساس ہے
چھوٹا ہُوا ہوں غم کے
جانے دیتا ہوں جہاں
بعض صدائیں ایسی ہیں
تمنا وصل کی کس رات
کرلیں جنھیں حکومت پوری کرنی ہے
سفر آسان تھوڑی ہوتے ہیں
اب جو آتا نہیں جواب کوئی
دولت کا غیر منصفانہ بٹوارہ
یہ کائناتی ذہانت کا دور ہے بھائی
نہ خراب ہوتا میں دھوپ میں
نظر سے نم نہ گیا
جہاں جہاں سے بھی جھلمل
یہ غم رہے نہ رہے غم نگاری رہ جائے
ابد کے طشت میں کچھ پھول
قباحت ایسی بھی کیا ہے
ہمارے سینے کے وسط میں
جہاز اک دن سمے کے
ذہانت نے نئی دنیا کی
کہیں شب کے کینوس پر
یہیں گرد و نواح میں گونجتی ہے
مرے غیاب میں جس نے ہنسی اڑائی مری
بلائیں پردۂ سیمیں پہ جلوہ گر ہوں گی
ایک تتلی کے پر مارنے سے
جاں کبھی دن سے کبھی رات سے
نہیں کچھ اور تو اپنے قریں پہنچ سکتے
جاب کرنا ہے تو سرکاری نہ کر
چُپکے سے
خدا سے، عشق سے
کچھ ایسی کوزہ گری آگئی اُداسی میں
روح اور بدن
میڈم – ناولٹ (قسط نمبر 2)
تعلیم کا مقصد: شعور یا روزگار؟
کیوں بھیجا مجھے تو نے
آج آیا ہے وہی شخص مٹانے مجھکو
ہمیں ہی وہم تھا
جب اکیلے میں تجھے یاد کیا کرتے ہیں
بازی وفا کی جیت کے ہارا نہیں کوئی
تری تصویر جلانے کی ضرورت کیا ہے
نہیں کہ عکس ادھورا ہی
انتظار ایسے کسی شخص کا کر جاؤں گا
رخ سے پردہ ہٹا کے دیکھیں گے
کہیں سکون نہیں ہے عذاب سے پہلے
ایک دن
اب عشق میں ہوں جان بَلَب
توکل کیا ھے؟
روحانیت اور جدید زندگی
ترا خواب آنکھوں کو پیغام دے
ظہران ممدانی
چکن چیز رول
دل میں ہے احترام رسولِ کریمؐ کا
قرآن اور انسانی نفسیات
اُردو زبان پر اعتراضات
میڈم – ناولٹ (قسط نمبر 3)
صحافت اور خبر
انٹرنیٹ کے دور میں کالم نگاری کی جہتیں
سبحان الذی خلق الازواج میں چھپی حکمت
ستائیسویں آئینی ترمیم
تم نے عجلت سی دکھائی ہے
ہے قبا کیسی ادھڑتی ہی
ایسا نہیں کہ ہار نہیں جانا چاہئیے
میں نے بدل کے دیکھ لیا ہے مزاج تک
فضاؤں کی ہیں سانسیں تنگ ، روکو
مجھ کو ہی نہیں اسکو بھی
ٹوٹا ہوا ہے جتنا بَھلے ، لگ نہیں رہا
سینے میں ہجرِ یار کے گھاؤ کے باوجود
<<
1
...
118
119
120
121
122
123
124
125
126
127
128
...
140
>>