آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریکومل جوئیہ

ٹوٹا ہوا ہے جتنا بَھلے ، لگ نہیں رہا

کومل جوئیہ کی ایک اردو غزل

ٹوٹا ہوا ہے جتنا بَھلے ، لگ نہیں رہا
وہ رو رہا ہے اور گلے لگ نہیں رہا

اِس تیز رو ہوا کی توجہ ہٹائیے
ورنہ چراغ اور جلے ، لگ نہیں رہا

خود ڈوبتا ہے دیکھ کے سورج کو ڈوبتا
دل ہے کہ اب تو شام ڈھلے لگ نہیں رہا

مجھ میں لہولہان ہیں سب خواہشیں مری
یہ جان لیوا جنگ ٹلے ، لگ نہیں رہا

نفرت کے موسموں میں محبت کا برگِ زرد
دو چار دن بھی پھولے پھلے لگ نہیں رہا

کومل جوئیہ

post bar salamurdu

کرن شہزادی

سلام اردو ایڈیٹر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button