- Advertisement -

زخم یادوں کے نہیں مٹتے ہیں آسانی سے

فرزانہ نیناں کی اردو غزل

زخم یادوں کے نہیں مٹتے ہیں آسانی سے
داغ دھلتے ہیں کہاں بہتے ہوئے پانی سے
دیکھتی جاتی ہوں میلے کا تماشہ چپ چاپ
کیا پتہ بول پڑے آنکھ ہی ویرانی سے
روشنی کا یہ خزانہ مری آنکھیں ہی نہ ہوں
شمع تو میں نے بجھا دی ہے پریشانی سے
میرے چہرے میں جھلکتا ہے کسی اور کا عکس
آئنہ دیکھ رہا ہے مجھے حیرانی سے
باندھ لی میں نے دعا رختِ سفر میں نیناں
ڈر جو لگتا ہے مجھے بے سرو سامانی سے

فرزانہ نیناں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
فرزانہ نیناں کی اردو غزل