آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریعمران ہاشمی

جانے دیتا ہوں جہاں

عمران ہاشمی کی ایک اردو غزل

جانے دیتا ہوں جہاں جانے کا مَن ہوتا ہے
دل کا اپنا بھی بہلنے کا چلن ہوتا ہے

اس لیے بھی میں ہر اِک رنگ پہ ہوتا ہوں فِدا
جانے کس رنگ میں البیلا سجن ہوتا ہے

تُو تو قِرطاس پہ ہوجاتا ہے ہونے میں مگن
اِک مصور ترے اعضا میں مگن ہوتا ہے

ایک ہنگامہ بپا رہتا ہے آنکھوں کا وہاں
جس گلی میں بھی کوئی شوخ بدن ہوتا ہے

عمران ہاشمی

post bar salamurdu

عمران ہاشمی

شاعر، افسانہ نگار، کالمسٹ - شعری مجموعہ ’’عکسِ جاں‘‘۲۰۱۱ - ادبی وابستگی: حلقہ اربابِ ذوق گوجرانوالہ - انجمن ترقی پسند مصنفین گوجرانوالہ و پنجاب - آغازِ شاعری 2001 - مینجنگ ڈائریکٹر: عامی پرنٹنگ پریس گوجرانوالہ - بن ہاشم پبلیکیشنز گوجرانوالہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button