- Advertisement -

Kaam Zaroori Aan Pada Hay

An Urdu Ghazal By Asim Mumtaz

کام ضروری آن پڑا ہے
رستہ بھی سنسان پڑا ہے

گھر کے اندر ہے تنہائی
باہر اک طوفان پڑا ہے

سجے ہیں رستے کس مقصد سے
کس جانب کو دھیان پڑا ہے

مجھ جیسے شاعر کی قیمت
بے قیمت دیوان پڑا ہے

یوں اپنی تہذیب بھلا کر
مشکل میں انسان پڑا ہے

تیرے بعد یہ تیرا عاصم
مدت سے ویران پڑا ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
An Urdu Ghazal By Asim Mumtaz