اردو غزلیاتشاہد ماکلیشعر و شاعری

ذہانت نے نئی دنیا کی

شاہد ماکلی کی ایک اردو غزل

ذہانت نے نئی دنیا کی بوطیقا مرتب کی
کہانی حاشیے پر جا چکی شاعر کے منصب کی

تری یہ گول دنیا تو کنواں ہے موت کا یا رب
میں چکرایا توازن میں تو پائی داد کرتب کی

نہ جانے آنکھ نے کیا دیکھ کر توسیع اسے دی ہے
وگرنہ خواب کی مدت تو پوری ہو چکی کب کی

صبا خوشبو کو آندھی گرد کو آگے بڑھاتی ہے
یہاں سب فکر پھیلاتے ہیں اپنے اپنے مکتب کی

ہماری کہکشاں کے وسط میں تاریک روزن ہے
اسی میں محو ہوتی جا رہی ہے روشنی سب کی

میں ان سے سرمئی صبحوں کی تمثیلیں نچوڑوں گا
لگی ہیں ہاتھ کچھ پرچھائیاں بھیگی ہوئی شب کی

فلک سے کام کے منظر کشید اک روز کر لوں گا
زمیں سے اخذ کر لوں گا فضائیں اپنے مطلب کی

ملیں گی دو تمنائیں تو حاصل کچھ نیا ہوگا
کہ اجزا سے الگ ہوتی ہے خاصیت مرکب کی

ہمارا ذوق نقاشی نہیں ہے آج کا پیارے
زباں تشکیل کے غاروں میں تھی یہ لہر ہے تب کی

کہیں ذرے کو اپنی موج میں اڑتا ہوا دیکھو
تو شاید تم سمجھ پاؤ حیات آزاد مشرب کی

نہیں معلوم کس شمسی فضا کے پاس سے گزرا
چمک بڑھنے لگی امکان کے دم دار کوکب کی

سیاہی پھیل کر دل سے جبیں تک آن پہنچی ہے
بدل دی ہیں مسلسل سرکشی نے صورتیں سب کی

گزر جوں ہی فراموشی کے دریا سے ہوا میرا
وہیں اپنی صراحی آب نسیاں سے لبالب کی

شاہد ماکلی

post bar salamurdu

شاہد ماکلی

شاہد ماکلی تونسہ کے گاؤں مکول کلاں سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کی تاریخ پیدائش 31 اگست 1977 ہے۔ آپ نے پنجاب یونیورسٹی لاہور، سے میٹلرجی اینڈ میٹریلز سائنس میں بی ایس سی انجینئرنگ کی ڈگری مکمل کی۔ آپ کا پہلا شعری مجموعہ ”موج“ 2000 میں شایع ہوا۔ جب کہ دوسرا مجموعہ ”تناظر“ کے نام سے 2014 میں شایع ہوا۔ اس کے علاوہ آپ معروف ادبی جریدے ”آثار“ سے بہ طور مدیر منسلک ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button