ہر اک ادا عقل سے ہے باہر، ترا مرے سے پیار مبہم
ترا یہ آنا بھی خواب جیسا، یونہی مرا انتظار مبہم
قرار ہے اب نہ چین ہے اب ، بڑی ہی مشکل ہے آج کی شب
گلے میں اٹکا یہ سانس مشکل یہ میرے دل کا قرار مبہم
تمہیں مری جاں میں کیا بتاؤں، کوئی ہو اک بات تو سناؤں
ہزار غم ہیں مرے بھی دل میں کنار مشکل شمار مبہم
یہ شہر آباد تھا مرے سے مگر میں اس سے چلا گیا ہوں
مرے بنا دیکھو اس کی حالت یہ گھر ہیں خالی حصار مبہم
محاصرہ غم کا ہر طرف ہے، مگر مجھے حکمِ لا تخف ہے
کہوں نہ کچھ بھی زباں سے بالکل اگرچہ ہو بھی فرار مبہم
تمہیں خوشی ہو جلال کیسے، تمہارے غم بھی عجیب ایسے
طویل راتیں، اداس موسم، غموں کی بارش، بہار مبہم
محمد حذیفہ جلال








