Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
جد وی تیرے ول آنی آں
تیتھوں کنارا مشکل اے
اسی لوک پنجابی بولنے آں
ہس ہس سکھ نَل وسدے لوکی
دل پیا ہوکے بھردا اے
دل پیا ہوکے بھردا اے
اوہدے ولوں ہاں وی نئیں سی
سوچاں اے کمال کیتا اے
تینوں دل چوں کڈ نئیں سکدی
تیرا جد وساء کیتا اے
شعور و فہم کا عالم
ہم خاک بسر آہ بلب سوختہ جاں سے
بقا
تقابل
امن
فقط
خواب سہانے بیچ رہی ہوں
تہذیب و تمدن
سیاسی سنگ میل میں خاص دن
توپوں کی گھن گرج میں امن کی صدا
مسٹر چیری
کئی اسرار ہوتے ہیں
ارادہ کر لیا ہے جب سفر کا
سہنے کو رنج گنبدِ بے در میں آ گیا
خَلق کی ابتدا محمدؐﷺ ہیں
پراپرٹی ڈیلنگ
جنموں کی داستاں ہے
ہر عیب چھپاتے ہیں
ظالم کو دوں دعائیں میں
مرنے دیتے ہیں نہ جینے کا مزہ دیتے ہیں
اس پار دیکھنا کبھی اس پار دیکھنا
نہ زمیں پر نہ آسمان میں ہے
خوشبو سے وادیوں کو مہک جانا چاہیے
اک حسیں دشت میں پر نور نظارہ دیکھا
پگڑیاں بیچ کے انسان کماتا کیا ہے
حصے میں نمی ہجر کی
رستے میں ہاتھ چھوڑ کے دنیا سے ڈر گیا
جن کو جینے کا سلیقہ
رات بھر دل سے کہیں شور جرس آتا ہے
کنارے دوست ہیں
اک وقت میں پھولوں کے
خوف طاری نہیں ہوتا
آواز کس نے دی مجھے
بند کمرے میں کوئی میرے
انکے چہروں پہ مسافت
آنکھوں کو اگر دل کا اشارہ نہیں ہوتا
بند کمرے میں کوئی میرے
خالی پن میں لکھی ایک نظم
بے چارہ دکھ
خودی کے سمندر میں پتھرا گئی ہوں
ہنرمند نسل کی تعمیر کیسے کی جائے؟
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا
موت سے پہلے
ادب کی روشنی میں اُردو
پاکستان کا دوٹوک موقف
زندگی
کیا اسیری کیا رہائی
حصار ذات
ساگر
تاریکی
یہی زندگی حقیقت یہی زندگی فسانہ
اُداسی دل میں بساۓ
چہرے کو ترے تکتے ہوۓ
ذائقہ بدلیں گے کیف و وجد میں
افسانہ حسن ِ نظر
نادان ادھاری کا خط
روداد
کیسے کہوں وہ دل کا ہے
جو ہو سکے تو اے نصیب
ہماری زندگی کا ایک ہی
<<
1
...
114
115
116
117
118
119
120
121
122
123
124
...
140
>>