مسٹر چیری سے میری پانچویں ملاقات کالج میں منعقد کیے گئے ایک ادبی میلے میں ہوئی تھی جس کا انعقاد آج سے چھ ماہ قبل کیا گیا تھا – یہاں وہ مہمانِ خصوصی مسٹر پیٹریاٹک کے جلو میں تشریف فرما تھے جو ” ادب میں عوام کا تڑکا” جیسے اہم موضوع پر اظہارِ خیال کیلئے یہاں تشریف لائے تھے، اور اپنی جیب سے مسٹر چیری بلاسم کی لکھی ہوئی اُس پرچی کو رٹا مارنے میں منہمک تھے جو اُنہوں نے ڈائس پر دورانِ خطاب انڈیلنی تھی ۔ یہ ادبی میلہ شہر کی سرکاری انتظامیہ نے ایک سیٹھ کے مالی تعاون سے منعقد کرایا تھا ، جو شہر میں غریب غرباء کے نام پر چندہ اکٹھا کرکے شرفاء کی بہبود کیلئے مختلف اسکیمز بنانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے ہیں۔
اس ادبی و کتابی میلے میں داخلہ مطلقا مفت تھا لہذا عوام کا جمِ غفیرکتابوں کے سٹالز پر اچٹتی نگاہ ڈالنے کے بعد ، جوق در جوق کھابوں کا رخ کر رہی تھی، جہاں اُن کے ذوقِ ماکولات اور حسِ طعام کی افزدوگی کیلئے خاطر خواہ انتظام کیا گیا تھا۔یہی وجہ تھی کہ کتابوں کے اسٹالز والے حضرات مکھیاں اڑانے جبکہ کھابوں والے نوٹ گننے میں مسلسل مصروف تھے۔
مسٹر چیری کا کامل نامِ نامی اسمِ گرامی جناب مسٹر چیری بلاسم ہے اور ان کو اس اسمِ توصیفی پر اس قدر ناز ہے کہ اگر کوئی دیرینہ شناسا اُن کے اصلی نام ” سچے میاں” سے پکارے تو ناراض ہوجاتے ہیں اور طبیعت میں یکبارگی ایسا انقباض پیدا ہوجاتا ہے کہ پھر اُس ناہنجار، جاہلِ مطلق کو دشنام طرازی کیےبنا کوئی دوا موثر ثابت نہیں ہوتی۔آپ مدظلہ العالی نے شاہی یونیورسٹی اشرافستان سے ” ماسٹرز ان بٹرو لوجی” کے بعد اُسی یونیورسٹی سے ” پروفیشنل لائف کی ترقی میں بٹرولوجی کے فوائد” جیسے دقیق موضوع پر تحقیقی مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔ آپ کے ساتھ سلسلہ شناسائی کو اُس وقت قریب اڑھائی ماہ ہوچلے تھے اور ان اڑھائی ماہ میں میرے ممدوح تین شرفاء کی محافل میں سرد گرم چکھنے کے بعد اب ان چوتھے صاحب کی محفل میں رونقیں بڑھا رہے تھے اور اٹھتے بیٹھتےاُن کی قصیدہ خوانی میں پورے ذوق سے مصروف تھے۔ اب یہیں سے دیکھ لیجیے کہ جب مسٹر چیری معذرت چیری بلاسم سپاسنامہ پیش کرنے ڈائس پر تشریف لائے تو اپنے صاحب کی شان میں وہ زمین و آسمان کے قلابے ملائے کہ خود موصوف بھی انگشتِ بدانداں رہ گئے کہ ” ہیں میرے اندر یہ بھی کوالٹیز موجود ہیں؟”۔
دورانِ خطاب مسٹر چیری نے جو اپنے دل کے ارماں حاضرین کے سامنے رکھے ، اُن کے مطابق” مسٹر پیٹریاٹک کی ذاتِ کریم وہ شخصیت ہے جو اس قہر آلود دور میں عوام کیلئے ایک شجرِ سایہ دار بن کر اسمبلی پرسایہ فگن ہے” اس دوران سٹیج سیکریٹری نے کانوں میں جاکر یہ مزاحمتی صد ادی کہ جلسہ موصوف کی شان میں نہیں بلکہ ادب اور عوام کیلئے منعقد کیا گیا ہے۔ چنانچہ مسٹر چیری نے فورا گرگٹ کی طرح رنگ بدلا اور پھر گویا ہوئے،” آپ بیک وقت اردو، فارسی اور انگریزی پہ کامل عبور رکھنے کے علاوہ ، غالب،میر اور قبال کے کلام کے شناور ہیں۔ غالب سے آپ کی محبت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ آپ نے غالب کی کتاب ” غالب کے گھریلو ٹوٹکے” نہ صرف خود قیمتا منگوائی ہے بلکہ اپنے سب دوستوں کو اس بات پر قائل کیا ہے کہ وہ اس کتاب کو ضرور منگوائیں اور مہلک قومی بیماریوں جیسے قبض، کھٹی ڈکاریں، سلسل البول اور پیچش کا علاج خود گھر پر کریں ” اس پر کالج کے شعبہ اردو کے انچارج نے اونچی آواز میں کھانس کر اُن پر دفاعی حملہ کرنے کی کوشش کی جسے موصوف نے کمال ہشیاری سے پسپا کرنے کے بعد اردو ادب پر مزید گولہ باری جاری رکھتے ہوئے فرمایا،”اقبال سے آپ کی محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ ہر سال نو نومبر اور اکیس اپریل کو باقاعدگی کے ساتھ ختم قرآن شریف کرواکے ، دو دو کلو نمکین اور میٹھے چاول اپنے گھر میں پکوا کر اپنے ہی گھر یوں تقسیم کرواتے ہیں کہ چاولوں کا ایک دانہ بھی گھر کی دہلیز سے باہر نہیں گرتا”۔ اردو ادب کو مشقِ ستم بنا نے کے بعد اب عوام کی باری تھی ، سو اس پر مسٹر چیری نے لب کشائی کرتے ہوئے فرمایا،” مسٹر پیٹریاٹک نے شہر میں بڑھتی مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی پر نوٹس لیتے ہوئے حال ہی میں خالص اور خالص عوام کی سہولت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ، اُن تمام ریڑھی بانوں اور چھوٹے قارون نما دکانداروں کو جیل بھجوانے کے علاوہ اُن پر ڈبل جرمانہ بھی عائد کروایا ہے ، جو عوام کا کچومر نکالنے کو ثواب سمجھتے ہیں۔
صرف یہی نہیں بلکہ آپ کو یہ جان کر کس قدر خوشی اور اطمینان محسوس ہوگا کہ انہوں نے سبزی منڈی کے آڑھتیوں ، غلے کے ذخیرہ اندوزوں اور پٹرول پمپس پر ناخالص پٹرول فروخت کرنے والے نادار وں کے پاس بنفسِ نفیس جا کر نہ صرف اُنہیں زبانی کلامی متنبہ کیا بلکہ اُنہیں یہاں تک ڈرایا کہ اگر وہ اس قبیح فعل سے باز نہ آئے تو جلد یا بدیر اُن پر خدا کا قہر بھی نازل ہوسکتا ہے”۔ الغرض ادھر مسٹر چیری بلاسم اپنی فصاحت و بلاغت کے جادو سے مسٹر پٹریاٹک کی خدمات ِ کاملہ و مساعی جمیلہ گنوا رہے تھے اور اُدھر مسٹر پٹریاٹک ہر جملے پر پہلو بدل کر زور دار آواز میں ” ہونہہ” کرکے اپنے آپ کو یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہے تھے کہ یہ سب کچھ جو وہ سن رہے ہیں وہ حقیقی ہے خواب نہیں۔
اس شاندار پروگرام کے بعد چائے کے وقفے پر میں مسٹر چیری کے پاس گیا اور اُن سے اس بابت استفسار کیا کہ وہ یہی تقریر کوئی دو ماہ پہلے ، ایک اور صاحب کی شان میں بلدیہ ہال میں منعقدہ عالمی یوم تعلیم پر بھی کر چکے ہیں تو میری بات سن کر ایک سموسہ حلق سے اتارنے کے بعد فرمانے لگے ، کہ "ارے اسے چھوڑو۔ اور یہ دیکھو کہ میری آج کی مقفع و مسجع تقریر سن کر ہال ہی میں بیٹھے ایک دوسرے صاحب مسٹر لینڈ لارڈ نے اپنے ہاں ملازمت دینے کا عندیہ دے دیا ہے”۔” تو آپ نے کیا سوچا ہے”، احقر کے اس نامعقول استفسار پر نہایت خندہ پیشانی سے فرمایا،” سوچنا کیا ہے۔ میں یہاں سے جا کر مسٹر پیٹریاٹک کو ریزائن جمع کروانے کے بعد اب انہی صاحب کے ہاں ملازمت پر جارہا ہوں۔ اسے کہتے ہیں ترقی۔ کیا سمجھے”۔ مجھ جیسا چھوٹا دما غ رکھنے والا انسان بھلا کہاں اس قابل کہ اتنی بڑی باتیں سوچے مگر پھر بھی اتنا ہی پوچھا ،” تو پھر آپ ؟”۔ میرے اس بچگانہ سوال کو سن کر کمال اطمینان کے ساتھ فرمایا،”تم ٹھیک کہتے ہو۔ ہو سکتا ہے اگلے مہینے اسی کالج ہال میں تم مجھے مسٹر لینڈ لارڈ کے ہمراہ "زمیندا کے حقوق اور مزارع کے فرائض” جیسے موضوع پر منعقدہ اجلاس میں یہی تقریر کرتے دیکھو”۔ اس پر میں نے مزید تعریف کرتے ہوئے کہا” اور جو آپ نے غالب کے ٹوٹکے نامی کتاب کو منصہ شہود پر لانے کی جسارت کی ہے یہ تو خالص آپ ہی جیسوں کا خاصہ ہے”۔ میری یہ بات سن کر بہت مسرور ہوئے اور فرمایا ،” ارے شکر کرو میں غالب تک رک گیا ، ورنہ میں تو "اقبال کا دستر خوان” اور” حالی کی آسان موٹر وائینڈنگ” نامی کتابوں کا بھی حال کھولنے والا تھا” ۔
مسٹر چیری بلاسم تو اپنی تقریر کی دھاک بٹھا کر چلے گئے مگر شہر میں مسٹر چیری بلاسم کی آشیر باد اور اُن کے زیرِ عاطفت چلنے والے تمام ادبی حلقوں میں کئی روز تک غالب کی اس نودریافت شدہ کتاب” غالب کے گھریلو ٹوٹکے” پر بحث جاری رہی ، جس کے مطابق غالب کی زندگی کا یہ اہم مگر مخفی حکیمی گوشہ دریافت کرنے اور اسے عوام کے سامنے لانے پر ” مسٹر چیری بلاسم” کو اس سال ادب کا نوبل پرائز دیا جائے۔ چناچہ اس کیلئے مسٹر چیری بلاسم کی ہی تائید اور ایما پر ایک باقاعدہ انجمن ” انجمنِ مداحین مسٹر چیری بلاسم” کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جو ہر جمعرات بعد از نماز عشاء حکیم مٹی والےکے گھر ایک اجلاس بلاتی ہے ، جہاں نوبل کمیٹی کو تاکیدی خطوط لکھنے کے ساتھ ساتھ ، مسٹر چیری بلاسم کھانے کی میز پر نو آموز ذہنوں اور ناپختہ چیری بلاسمز کو تقریر میں فصاحت و بلاغت کا ملکہ سکھانے کے علاوہ، اُنہیں درباری قصیدہ گوئی کی باقاعدہ مشق بھی کرا تے ہیں۔
مسٹر چیری بلاسم دراصل اس انجمن کے ذریعے ایک ایسے باقاعدہ ادارے کے قیام کا ارادہ رکھتے ہیں جو ان کے اس نیک مشن کو نہ صرف آنے والی نسلوں تک منتقل کرسکے بلکہ اُن کا نام بھی فن چرب زبانی اور قصیدہ گوئی کی کتابوں میں زریں حروف کے ساتھ تاقیامت چمکتا رہے۔ اس سلسلے میں درکار تمام سرکاری دستاویزات بمع چالان فارم متعلقہ دفتر میں جمع کروادیا گیا ہے اور امید ہے بہت جلد ہم شہر کے مرکزی چوک پر اس ادارے کے افتتاحی اجلاس میں آپ کو چائے پیتے نظر آئیں جس کا نام ” ادارہ تحفظ درباری قصیدہ گوئی ” ہے اور جس کی صدارت کیلئے تمام اراکین کی متفقہ تائید سے ” مسٹر چیری بلاسم” کو اگلے پانچ سو سال کیلئے منتخب کر لیا گیا ہے۔








