کنارے دوست ہیں طوفاں سلام کرتے ہیں
بھنور بھی پاؤں میں آ کر قیام کرتے ہیں
کمال چاشنی ہے دشمنوں کے لہجوں میں
چھری بغل میں لیے رام رام کرتے ہیں
مریں تو بین کریں گے مرے جنازے پر
جئیں تو لوگ یہ جینا حرام کرتے ہیں
نظر سے آپ ہی گر تے ہیں لوگ عجلت میں
وہ زیر آپ ہی اپنا مقام کرتے ہیں
ہم ایسے لوگ ہی رونق ہیں بزم _ ہستی کی
ہنسیں تو صبح اداسی سے شام کرتے ہیں
ملوں گی ڈال کے دنیا کی آنکھ میں آنکھیں
کہ بات سر کو جھکا کر غلام کرتے ہیں
سخن کے رزق سے برکت ہی اٹھ گئی اب تو
ادب کا حال جو شعراء کرام کرتے ہیں
ہمیں تو سانس بھی ملتے ہیں دکھ اٹھانے کو
جہانِ کُن میں بھی اجرت پہ کام کرتے ہیں
فوزیہ شیخ








