Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
حسنِ فردا غمِ امروز سے
مگر وہ پھول سا چہرہ
ہرا بھرا بدن اپنا
پیروں میں زنجیریں ڈالیں
دریا سے کوئی شخص
اپنے حالات سے مجبور ہیں
میں اس گلی میں اکیلا تھا
ہر شے گزشتنی ہے
زخم کھلتے ہیں
بہتر ہے خاک ڈالیے
دوستو پانی کبھی رکتا نہیں
میری آنکھوں میں سجا ہے
روشن ہیں دل کے داغ
کلیوں کو نہال کر گئے ہم
<<
1
...
112
113
114
115
116
117
118
119
120
121
122
...
709
>>