Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
دیکھتی رہ گئی محرابِ حرم
اتر گیا تن نازک سے
قریہ قریہ
شاخوں بھری بہار میں رقص برہنگی
رعنائیِٔ نگاہ کو قالب میں ڈھالیے
جلتے صحراؤں میں پھیلا ہوتا
آگ کے درمیان سے نکلا
وہ دوریوں کا رہِ آب پر نشان کھلا
چوٹ ہر گام پہ کھا کر جانا
برگِ دل کی طرح ہے
وہ سامنے تھا پھر بھی
غمِ الفت مرے چہرے سے
جاری رہے گلشن میں
مجھ سے ملنے شب غم
<<
1
...
111
112
113
114
115
116
117
118
119
120
121
...
709
>>