اردو غزلیاتشعر و شاعریشکیب جلالی

شاخوں بھری بہار میں رقص برہنگی

شکیب جلالی کی ایک اردو غزل

شاخوں بھری بہار میں رقص برہنگی
مہکی ہوئی وہ چادرِ گل بار کیا ہوئی
بے نغمہ و صدا ہے وہ بت خانۂِ خیال
کرتے تھے گفتگو جہاں پتھر کے ہونٹ بھی
وہ پھر رہے ہیں زخم بہ پا آج دشت دشت
قدموں میں جن کے شاخِ گلِ تر جھکی رہی
یوں بھی بڑھی ہے وسعت ایوانِ رنگ و بو
دیوارِ گلستان درِ زنداں سے جا ملی
رعنائیاں چمن کی تو پہلے بھی کم نہ تھیں
اب کے مگر سجائی گئی شاخِ دار بھی

شکیب جلالی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button