آپ کا سلاماردو غزلیاتاظہر عباس خانشعر و شاعری
شاعری کرتے ہوئے تازہ خیالوں کے بغیر
اظہر عباس خان کی ایک اردو غزل
شاعری کرتے ہوئے تازہ خیالوں کے بغیر
طائران شور پروردہ ہیں نالوں کے بغیر
اہل دل کے دل میں ان کی کوئی عزت ہی نہیں
آنکھ اشکوں کے بنا اور پاؤں چھالوں کے بغیر
ہارنا ممکن نہیں اور جیت اک عفریت ہے
یہ بساطِ عشق ہے اور ہے بھی چالوں کے بغیر
ختم ہوتے جا رہے ہیں قیس کے اب پیروکار
دشت ویراں ہو گئے آشفتہ حالوں کے بغیر
تن کے رستے میں سرائیں بی بہا موجود ہیں
راستہ من کا ہے سادھو دھرمشالوں کے بغیر
اک سفر براق سے کم پر نہیں رکھا گیا
اک سفر ممکن نہ تھا مکڑی کے جالوں کے بغیر
اتنا عرصہ تو مری نظروں سے اوجھل جو رہا
عمر میں گنتا ہوں اپنی آٹھ سالوں کے بغیر
اظہر عباس خان







