آپ کا سلاماردو غزلیاتاظہر عباس خانشعر و شاعری

شاعری کرتے ہوئے تازہ خیالوں کے بغیر

اظہر عباس خان کی ایک اردو غزل

شاعری کرتے ہوئے تازہ خیالوں کے بغیر
طائران شور پروردہ ہیں نالوں کے بغیر

اہل دل کے دل میں ان کی کوئی عزت ہی نہیں
آنکھ اشکوں کے بنا اور پاؤں چھالوں کے بغیر

ہارنا ممکن نہیں اور جیت اک عفریت ہے
یہ بساطِ عشق ہے اور ہے بھی چالوں کے بغیر

ختم ہوتے جا رہے ہیں قیس کے اب پیروکار
دشت ویراں ہو گئے آشفتہ حالوں کے بغیر

تن کے رستے میں سرائیں بی بہا موجود ہیں
راستہ من کا ہے سادھو دھرمشالوں کے بغیر

اک سفر براق سے کم پر نہیں رکھا گیا
اک سفر ممکن نہ تھا مکڑی کے جالوں کے بغیر

اتنا عرصہ تو مری نظروں سے اوجھل جو رہا
عمر میں گنتا ہوں اپنی آٹھ سالوں کے بغیر

اظہر عباس خان

post bar salamurdu

اظہر عباس خان

اظہَر عبّاس خان کا شمار اُن معاصر شعرا میں ہوتا ہے جن کے ہاں روایت کی گہرائی اور جدّت کی لطافت دونوں یکجا نظر آتی ہیں۔ ان کا کلام نہ صرف کلاسیکی اردو غزل کے اسلوب سے جڑا ہوا ہے بلکہ اس میں مذہبی، صوفیانہ، عاشورائی اور رومانوی حسّیت کا ایک ایسا امتزاج بھی پایا جاتا ہے جو قاری کے ذہن و دل پر بیک وقت وجد اور تفکّر کی کیفیت طاری کرتا ہے۔ ان کا شعری سفر دراصل ایک داخلی جہان کی تلاش ہے جس میں اظہار کی سچّائی، جذبے کی شدّت اور زبان کی صفائی بنیادی عناصر کی حیثیت رکھتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button