آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریکاشف حسین غائر

پھول، خوشبو، دھنک ،ستارے سب

کاشف حسین غائر کی ایک اردو غزل

پھول، خوشبو، دھنک ،ستارے سب
زندگی کے ہیں استعارے سب

یاد آیا بہت دلِ ناکام
کام جب ہو چکے ہمارے سب

ہاتھ وہ لہر پھر نہیں آئی
ہاتھ ملتے رہے کنارے سب

میری چپ سے ملی زبان انھیں
ورنہ خاموش تھے نظارے سب

میر و سودا و آتش و غالب
ہیں اِسی زندگی کے مارے سب

کاشف حسین غائر

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button