Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
اشفاق احمد اور اُردو ادب
بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم
عشق لگتا ہے مجھکو گوہر سا
چلن احساس کا ہے
ہر گھڑی اک نیا تقاضا ہے
اگرچہ درد کے دل میں
غم مجھے کرنے لگے
وفا کی لو کبھی مدھم نہ کرنا
انا کے پیڑ
کہاں ہوتے ہوۓ احساس
طلب کے خول سے دل
شاز ملک
چلو مان لیا
تاوان
بیٹھے بٹھائے سر پہ یہ افتاد آ گئی
مجھ کو عادت ہے زخم کھانے کی
ٹیکنالوجی کا داخلہ: کلاس روم کا نیا چہرہ
علامہ اقبال کی اُردو
کُل جہاں دلنشین ہے مولا
میں اللہ کا شکر ادا کرتی ھوں
درد دل کی دوا نہیں کرتے
ہاتھ اٹھا اور یہ دعا کر دے
مٹا کے نقش سبھی دل سے
باعثِ اضطراب دیکھتے ہیں
کہی ہے پھر بھی اب تک ان کہی ہے
گری ہے برق دل کے آشیاں پر
کہاں ہاتھ دے کر اٹھانے ملے
میں بھی تیرے جیسی ہوں
ہم اہلِِ مہر و محبت طلب، رسد کے نہیں
یہ بات الگ ہے کہ ہوئی پشت خمیدہ
دیارِ عشق سے آئی ندائے کن فیکون
شاعری کرتے ہوئے تازہ خیالوں کے بغیر
فِیٛ اَحٛسَنِ تَقٛوَیٛمٛ کی تفسیر
کیوں چشمِ نم یہ زیرِ نکاسی
جس کے ہاتھ میں تانا بانا ہوتا ہے
عشق نے مجھ میں
ملے تھے دشت کئی قہقہہ لگاتے ہوئے
گھما لیا ترا کنگن بھی اور کلائی بھی
اک مصرعے نے چوم لیا درد ہمارا
متاعِ ہجر کو ضائع نہیں ، مفید کیا
میرے وطن کو کوئی دعا لگ نہیں رہی
از روۓ زمیں اور نہ افلاک سے نکلے
یہ کسی طور اَہانت نہیں سمجھا جائے
کسی کے آنے کے کامل یقیں پہ چلتا ہے
منزل الجھ گئی ہے یہاں راستے سمیت
ماورا وقت سے اور سود و زیاں سے آگے
عدو کی صف میں وہ کس
اظہر عباس – شعری دشت کا تنہا مسافر
تنہائی
دل نہیں کرتا
آؤ
چوگا چنتی چڑیا کے دُکھ
ان کے کپڑے نہیں جسم پھاڑ ڈالو
مجھے پیار ہے
خاموشی بھی موت ہوتی ہے
محبت کی ہجر کہانی
بے چارہ دکھ
بجوکے
سیرتِ رسول ﷺ انسانیت کے لیے کامل نمونہ
میں اپنے شاعر سے ملتمس ہوں
احساس
حوصلہ افزائی
ڈیجیٹل دور میں زہریلی رائے کا کاروبار
ٹوٹتا خاندانی نظام اور ماں
عجب کرپشن کی غضب کہانی
ساحل ملا تو موج بلا ڈھونڈتے رہے
شعور و فہم کا عالم
زخموں کی طرح شمع دل زار جلی ہے
منشیات کا بڑھتا ہوا استعمال
گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے
<<
1
...
115
116
117
118
119
120
121
122
123
124
125
...
140
>>