آپ کا سلاماردو غزلیاتاظہر عباس خانشعر و شاعری

ماورا وقت سے اور سود و زیاں سے آگے

اظہر عباس خان کی ایک اردو غزل

ماورا وقت سے اور سود و زیاں سے آگے
عشق آ پہنچا ہے خطرے کے نشاں سے آگے

اس لیے رب مری شہ رگ کے قریں رہتا ہے
میں نہ آ جاؤں کہیں کون و مکاں سے آگے

ہر نئے دکھ پہ وہ حیرت سے یہ دیکھے کہ مرا
ضبط ہے چار قدم آہ و فغاں سے آگے

قصۂ حور الگ شے ہے، مرا یار الگ
کیا حسیں شخص ہے وہ حسنِ بیاں سے آگے

یہ فقط آنکھ نہیں چشمِ بصیرت ہے میاں
میں اسے جا کے ملوں سرِ نہاں سے آگے

وہ تو رحمان ہے رحمان بھی ہے لامحدود
میں نے بھیجا ہی نہیں کچھ بھی یہاں سے آگے

اس کو پیچھے کی طرف جتنا بھی کھینچیں اظہر
تیر پھر تیر ہے رہتا ہے کماں سے آگے

اظہر عباس خان

post bar salamurdu

اظہر عباس خان

اظہَر عبّاس خان کا شمار اُن معاصر شعرا میں ہوتا ہے جن کے ہاں روایت کی گہرائی اور جدّت کی لطافت دونوں یکجا نظر آتی ہیں۔ ان کا کلام نہ صرف کلاسیکی اردو غزل کے اسلوب سے جڑا ہوا ہے بلکہ اس میں مذہبی، صوفیانہ، عاشورائی اور رومانوی حسّیت کا ایک ایسا امتزاج بھی پایا جاتا ہے جو قاری کے ذہن و دل پر بیک وقت وجد اور تفکّر کی کیفیت طاری کرتا ہے۔ ان کا شعری سفر دراصل ایک داخلی جہان کی تلاش ہے جس میں اظہار کی سچّائی، جذبے کی شدّت اور زبان کی صفائی بنیادی عناصر کی حیثیت رکھتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button