- Advertisement -

لائے کبھی قریب وہ دیوار کھینچ کر

محمد رضا نقشبندی کی ایک اردو غزل

لائے کبھی قریب وہ دیوار کھینچ کر
لے جاتا ہے جو دھوپ میں ہر بار کھینچ کر

آیا ہوں تیرے سامنے سر ہے جھکا ہوا
تو بھی کھڑا ، نیام سے تلوار کھینچ کر

ڈاکے ، شراب ، چوریاں ، الزام ، دھاندلی
بیٹھا ہوا ہوں شام کا اخبار کھینچ کر

اس کی نگاہِ ناز کی تاثیر دیکھیے
اس پار سے وہ لے گیا اس پار کھینچ کر

پیشِ نظر جمال ترا دم بدم رہے
لے آئی مجھ کو حسرتِ دیدار کھینچ کر

محمد رضا نقشبندی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
محمد رضا نقشبندی کی ایک اردو غزل