آپ کا سلاماردو غزلیاتثوبیہ نورین نیازیشعر و شاعری
کہاں ہاتھ دے کر اٹھانے ملے
ثوبیہ نورین نیازی کی ایک اردو غزل
کہاں ہاتھ دے کر اٹھانے ملے
ہمیں جو ملے وہ گرانے ملے
ہر اک سمت پھیلی ہے خوشبو تیری
ہر اک سمت تیرے دیوانے ملے
نئی رت میں بدلا تو سب کچھ مگر
وہی درد ہم کو پرانے ملے
کبھی ہجر کی ہم نے کھولی کتاب
تو یادوں کے کتنے خزانے ملے
نہ بھایا نظر میں کوئی بھی میری
ازل سے تمھارے ٹھکانے ملے
پرندے جو طوفاں کی زد میں رہے
انہیں پھر کہاں آشیانے ملے
اداسی نے پھر دیکھ لی اپنی راہ
تیری یاد کے پھر بہانے ملے
نہیں کوئی چاہت نہ اپنائیت
خدایا یہ کیسے زمانے ملے
ثوبیہ خان نیازی








