آپ کا سلاماردو غزلیاتثوبیہ نورین نیازیشعر و شاعری

کہاں ہاتھ دے کر اٹھانے ملے

ثوبیہ نورین نیازی کی ایک اردو غزل

کہاں ہاتھ دے کر اٹھانے ملے
ہمیں جو ملے وہ گرانے ملے

ہر اک سمت پھیلی ہے خوشبو تیری
ہر اک سمت تیرے دیوانے ملے

نئی رت میں بدلا تو سب کچھ مگر
وہی درد ہم کو پرانے ملے

کبھی ہجر کی ہم نے کھولی کتاب
تو یادوں کے کتنے خزانے ملے

نہ بھایا نظر میں کوئی بھی میری
ازل سے تمھارے ٹھکانے ملے

پرندے جو طوفاں کی زد میں رہے
انہیں پھر کہاں آشیانے ملے

اداسی نے پھر دیکھ لی اپنی راہ
تیری یاد کے پھر بہانے ملے

نہیں کوئی چاہت نہ اپنائیت
خدایا یہ کیسے زمانے ملے

ثوبیہ خان نیازی

post bar salamurdu

ثوبیہ نورین نیازی

ثوبیہ نورین نیازی کا تعلق فیض احمد فیض کی سرزمیں نارووال سے ہے - ابتدائی تعلیم اپنے ہی شہر سے حاصل کی - بعد ازاں اعلی تعلیم کے لیے لاہور کا رخ کیا اور یہی پہ رہائش پذیر ہیں - شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں- ایک شعری مجموعہ میرا محرم راز اور ایک نثری مضامین کی کتاب کبھی دیکھ پلٹ کر شائع ہو چکی ہیں - جبکہ دوسرا شعری مجموعہ تاروں کے دشت میں زیر طبع ہے - ثوبیہ نورین نیازی پاکستان کے بڑے اخبار نوائے وقت میں کالمز لکھتی ہیں - اس کے علاوہ خدمت خلق کے کئی اداروں سے وابستہ ہیں - ثوبیہ نورین نیازی نے اپنے اشعار میں محبت کے سچے جذبوں کو پورے خلوص سے بیان کیا ہے ان کے ہاں سادگی، سلاست اور روانی ہے - زیادہ تر چھوٹی بحر میں شاعری کرتی ہیں - چند لفظوں میں بڑی سے بات بیان کرنے کا ہنر جانتی ہیں - نثر میں واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ سے متاثر ہیں - تصوف اور وحدت الوجود کا بیان بڑی گہرائی اور وسعت قلب سے کرتی ہیں -

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button