ہجر کی آیتیں دل کی چاروں دیواروں پر
آج بھی یوں کندہ ہیں
جیسے کسی پرانے مندر کے ستونوں پر وقت کے ناخنوں سے کریدے گئے زخم
یا
ہوا کے شیشے جیسے ذروں سے روح کے کٹورے کو چھیدتے ہوئے ستارہ جیسے آنسو
اور محبت!
محبت وہ ادھوری دعا
جو کبھی لبوں سے جدا نہ ہوئی
اور جدائی وہ سود
جس کی قسطیں ہر دھڑکن کے ساتھ ادا ہوتی رہیں
شام نے رات کے بیابان میں کھڑے سائے سے پوچھا
کیا خالی پن بھی محبت کا دوسرا چہرہ ہے؟
سایہ مسکراتے ہوئے
ریت کے ذروں میں یوں تحلیل ہوگیا
جیسے شمع کے قریب آتے پروانے کا لمس
مگر
یاد کی مٹی پر رکھے ہوئے ہونٹ
کسی بے نام مناجات کو دہراتے رہے اور
محبت کی کمائی
ہوا کے خالی کاسے میں بکھر کر
خاموش صدیوں کی خیرات بن گئی
شاید ہجر وہ کاغذ ہے
جس پر خواب کی روشنائی سے درد کی آیات لکھی گئیں
مگر وقت کی بارش نے
سب سیاہی کو بہا کر خالی پن کی تفسیر بنا دیا
اب صرف دھند ہے
اور دھند کے پار وہی آواز
جو کبھی دل کی محراب میں محبت سی گونجی تھی
آج اجنبی خدا کی طرح
دور ، خاموش کھڑی ہے!!
نجمہ منصور








