آپ کا سلاماردو نظمشعر و شاعرینجمہ منصور

محبت کی ہجر کہانی

ایک اردو نظم از نجمہ منصور

ہجر کی آیتیں دل کی چاروں دیواروں پر
آج بھی یوں کندہ ہیں
جیسے کسی پرانے مندر کے ستونوں پر وقت کے ناخنوں سے کریدے گئے زخم
یا
ہوا کے شیشے جیسے ذروں سے روح کے کٹورے کو چھیدتے ہوئے ستارہ جیسے آنسو

اور محبت!
محبت وہ ادھوری دعا
جو کبھی لبوں سے جدا نہ ہوئی
اور جدائی وہ سود
جس کی قسطیں ہر دھڑکن کے ساتھ ادا ہوتی رہیں

شام نے رات کے بیابان میں کھڑے سائے سے پوچھا
کیا خالی پن بھی محبت کا دوسرا چہرہ ہے؟
سایہ مسکراتے ہوئے
ریت کے ذروں میں یوں تحلیل ہوگیا
جیسے شمع کے قریب آتے پروانے کا لمس
مگر
یاد کی مٹی پر رکھے ہوئے ہونٹ
کسی بے نام مناجات کو دہراتے رہے اور
محبت کی کمائی
ہوا کے خالی کاسے میں بکھر کر
خاموش صدیوں کی خیرات بن گئی

شاید ہجر وہ کاغذ ہے
جس پر خواب کی روشنائی سے درد کی آیات لکھی گئیں
مگر وقت کی بارش نے
سب سیاہی کو بہا کر خالی پن کی تفسیر بنا دیا

اب صرف دھند ہے
اور دھند کے پار وہی آواز
جو کبھی دل کی محراب میں محبت سی گونجی تھی
آج اجنبی خدا کی طرح
دور ، خاموش کھڑی ہے!!

نجمہ منصور

post bar salamurdu

نجمہ منصور

نجمہ منصور ۹نومبر ۱۹۶۶ء کو سرگودھا میں پیدا ہوئیں۔ ۱۹۸۰ء میں میٹرک گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول سرگودھا سے کیا اور ایم۔اے تاریخ اور ایم۔اے ایجوکیشن کی ڈگری بھی حاصل کی۔ نجمہ منصور بنیادی طور پر نثری نظم کی شاعرہ ہیں شاعری کا آغاز کالج دور سے ہوا۔ پہلی کتاب 1990 میں شائع ہوئی مگر ان کا علمی و ادبی سفر صرف شاعری تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ ایک بہترین ریسرچ اسکالر کے طور پر بھی اپنی ایک الگ پہچان رکھتی ہیں درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہی ہیں ان کی ایک کتاب ،، اگر نظموں کے پر ہوتے ،، کا ترجمہ انگریزی زبان میں بھی ہو چکا ہے۔ ان کی تقریباً دو درجن کے لگ بھگ کتابیں منظرِ عام پر آ چکی ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button